🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. بَابُ تَرْكِ غُسْلِ الشَّهِيدِ وَمَا جَاءَ فِيهِ
شہید کو غسل نہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3103
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: ( (زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ فَإِنِّي قَدْ شَهِدْتُّ عَلَيْهِمْ) ) ، فَكَانَ يُدْفَنُ الرَّجُلَانِ وَثَلَاثَةٌ فِي الْقَبْرِ الْوَاحِدِ، وَيُسْأَلُ أَيُّهُمْ كَانَ أَقْرَأَ لِلْقُرْآنِ فَيُقَدَّمُونَهُ، قَالَ: فَدُفِنَ أَبِي وَعَمِّي يَوْمَئِذٍ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ
سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہداء پرمتوجہ ہوئے اور فرمایا: ان کو خون سمیت ڈھانپ دو، میں ان کے حق میں گواہی دوں گا۔)) پھر دو دو، تین تین آدمیوں کو ایک ایک قبر میں دفن کیا گیا اور دفن کے وقت یہ پوچھا جاتا ہے کہ ان میں سے کون زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہے، پھر اسے قبر میں مقدم کرتے تھے۔ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس روز میرے والد اور چچا کو ایک قبر میں دفن کیا گیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3103]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1343، 1345، 1346، 1347، 1353، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24059»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1343
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3104
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ قَالَ: ( (أَشْهَدُ عَلَى هَؤُلَاءِ، مَا مِنْ مَجْرُوحٍ جُرِحَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَدْمَى، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ، انْظُرُوا أَكْثَرَهُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ، فَقَدِّمُوهُ أَمَامَهُمْ فِي الْقَبْرِ) )
سیّدنا عبد اللہ بن صعیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہدائے احد پر متوجہ ہوئے تو فرمایا: میں ان پر گواہ ہوں، جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخمی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کے زخم سے خون جاری ہو گا، اس کا رنگ تو خون جیسا ہی ہو گا، لیکن خوشبو کستوری کی سی ہو گی۔ اب دیکھو! ان میں سے جس کو قرآن مجید زیادہ یاد ہو، اسے قبر میں آگے کی طرف رکھو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3104]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24058»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 258
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3105
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي قَتْلَى أُحُدٍ: ( (لَا تُغَسِّلُوهُمْ فَإِنَّ كُلَّ جُرْحٍ أَوْ كُلَّ دَمٍ يَفُوحُ مِسْكًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہدائے احد کے متعلق فرمایا: انہیں غسل نہ دو، کیونکہ قیامت کے دن ہر زخم یا ہر خون سے کستوری کی خوشبو آئے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3105]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرج بنحوه البخاري: 1343، 1345، 1346، دون ذكر الجرح او الدم۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14189 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14238»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرج بنحوه البخاري: 1343
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3106
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دُفِنَ فِي ثِيَابِهِ بِدِمَائِهِ وَلَمْ يُغَسَّلْ
عبد اللہ بن فروخ کہتے ہیں:میں موجود تھا، سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو خون سمیت ان کے کپڑوں میں دفن کیا گیا اور ان کو غسل نہیں دیا گیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3106]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محبوب بن محرز ضعفه الدارقطني، وقال ابو حاتم: يكتب حديثه، وذكره ابن حبان في الثقات، وابراهيم بن عبد الله بن فروخ مجھول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 531 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 531»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں کہ شہید سے اسلحہ وغیرہ اتار کر اس کو غسل دیئے بغیر اس کو اس کے کپڑوں میں کفن دے کر نماز جنازہ پڑھے بغیر دفن کر دیا جائے گا اور مجبوری کے وقت دو تین تین افراد کو ایک ایک قبر میں دفن کیا جا سکتا ہے، البتہ ان میںجو زیادہ قرآن مجید پڑھنے والا ہو، اسے قبلہ کی طرف مقدم کر کے رکھا جائے۔ لیکن شہید کی نماز جنازہ پڑھنا بھی درست ہے، دلائل درج ذیل ہیں: سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نکلے اور آٹھ سالوں کے بعد احد والوں پر اسی طرح نماز پڑھی، جیسے میت پر پڑھتے، ایسے معلوم ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندوں اور مردوں کو الوداع کہہ رہے ہیں، پھر منبر کی طرف پھرے۔ …۔ (بخاری، مسلم)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں