🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالسِّقْطِ وَعَدَمِهَا
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3151
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَقَالَ: ( (إِنَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مَنْ يُتِمُّ رَضَاعَهُ، وَهُوَ صِدِّيقٌ) )
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ، جو سولہ ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے تھے، کی نماز جنازہ پڑھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے متعلق یہ بھی فرمایا تھا کہ اس کے لیے جنت میں (خواتین) ہیں جو اس کی رضاعت مکمل کریں گی، (یہ میرا بیٹا) صِدِّیق ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3151]
تخریج الحدیث: «قوله((إِنَّه لَهُ فِي الْجَنَّةِ مَنْ يُتِمُّ رَضَاعَهُ))صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي أخرجه البخاري: 1382، 3255 بلفظ: لما توفي ابراهيم g قال رسول اللهV: ((ان له مرضعا في الجنة۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18497، 18502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18691»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ اٹھارہ ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے تھے، صحیح روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی، وہ تمام روایات جن میں ان پر نماز جنازہ ادا کرنے کا ذکر ہے، سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں۔ اس مسئلہ کے لیے ملاحظہ ہو: (نصب الرایۃ: ۲/ ۲۷۹،زاد المعاد: ۱/ ۵۱۳)

الحكم على الحديث: قوله((إِنَّه لَهُ فِي الْجَنَّةِ مَنْ يُتِمُّ رَضَاعَهُ))صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3152
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (السِّقْطُ (وَفِي رِوَايَةٍ الطِّفْلُ) يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ) )
سیّدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبل از وقت نامکمل پیدا ہونے والے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور اس کے والدین کے حق میں مغفرت و رحمت کی دعا کی جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3152]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 1031، وابن ماجه: 1507، والنسائي: 4/ 56 بلفظ: ((والطفل يصلي عليه۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18162، 18174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18358»
وضاحت: فوائد: … احادیث صحیحہ کی روشنی میں حمل ٹھہرنے سے چار ماہ کے بعدبچے میں روح پھونک دی جاتی ہے اور وہ ایک (زندہ) جان بن جاتا ہے، اس لیے اگر اس مدت کے بعد حمل ساقط ہو جاتا ہے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے، جس میں اس کے والدین کے لیے دعا کی جاتی ہے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 1031
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3153
عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ لَوْ عَاشَ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا
اسمٰعیل سدی کہتے ہیں میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے فرزند ابراہیمؓ کی نماز جنازہ پڑھی تھی؟ انہوں کہا، مجھے معلوم نہیں۔ ابراہیم رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، وہ اگر زندہ رہتا تو صدیق نبی ہوتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3153]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن سعد: 1/ 140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14030»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع کی موقوف روایات کو بھی مرفوع کا حکم دیا جائے گا، کیونکہ ان کا رائے اور اجتہاد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسماعیل کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا: وہ چھوٹی عمر میں ہی فوت گئے تھے، اگر یہ فیصلہ ہو چکا ہوتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد

الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه ابن سعد: 1/ 140
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں