الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةً فَلَا يَجْلِسُ حَتَّى تُوضَعَ وَمَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ إِذَا مَرَّتْ
جنازے کے ساتھ چلنے والے کے جنازے کے رکھے جانے تک نہ بیٹھنے اور جنازے کے گزرتے وقت اس کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3216
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا، فَمَنِ اتَّبَعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوَضَعَ) )
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہو جایا کرو اور جو کوئی جنازے کے ساتھ جائے، وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک اسے (زمین پر) رکھ نہ دیا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3216]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1310، ومسلم: 959، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11386»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1310
حدیث نمبر: 3217
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَمْ يَمْشِ مَعَهَا فَلْيَقُمْ حَتَّى تَغِيبَ عَنْهُ، وَمَنْ مَشَى مَعَهَا فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى تُوَضَعَ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نمازِ جنازہ پڑھے اور تدفین کے لیے میت کے ساتھ نہ جائے تو وہ اس وقت تک کھڑا رہے، جب تک وہ اس سے غائب نہ ہو جائے، اور جو آدمی اس کے ساتھ جائے، وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک اسے زمین پر نہ رکھ دیا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3217]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7593 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7583»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3218
عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى جَنَازَةً فَقَامَ إِلَيْهَا وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى جَنَازَةً فَقَامَ لَهَا
سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایک جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ بھی ایک جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3218]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 185، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 426 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 426»
الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 185
حدیث نمبر: 3219
عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ وَلَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا فَلْيَقُمْ حَتَّى تُجَاوِزَهُ أَوْ تُوَضَعَ) )
سیّدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی جنازہ دیکھے، جبکہ وہ اس کے ساتھ جانے والا نہ ہو تو وہ اس وقت تک کھڑا رہے، جب تک وہ اس سے تجاوز نہ کر جائے یا اسے رکھ نہ دیا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3219]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1308، ومسلم: 958، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15763»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1308
حدیث نمبر: 3220
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا رَأَيْتَ جَنَازَةً فَقُمْ حَتَّى تُجَاوِزَكَ أَوْ قَالَ قِفْ حَتَّى تُجَاوِزَكَ) )
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب توجنازہ دیکھے تو اس وقت تک کھڑا رہ جب تک وہ تجھ سے آگے نہ گزر جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3220]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15762»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15762
حدیث نمبر: 3221
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى وَوَكِيعٌ عَنْ زَكَرِيَّا حَدَّثَنِي عَامِرٌ قَالَ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ وَمَرْوَانُ جَالِسَيْنِ فَمُرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ مَرْوَانُ: اجْلِسْ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ، فَقَامَ مَرْوَانُ، وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ
عامر کہتے ہیں: سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور مروان بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، سیّدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، مروان نے ان سے کہا: بیٹھے رہو، انھوں نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (جنازے کے لیے) کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا تھا، یہ سن کر مروان بھی کھڑا ہو گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3221]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 4/ 45، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11526»
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 4/ 45
حدیث نمبر: 3222
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذَئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ مَرْوَانَ، فَمَرَّتْ جَنَازَةٌ فَمَرَّ بِهِ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ: قُمْ أَيُّهَا الْأَمِيرُ! فَقَدْ عَلِمَ هَذَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَبِعَ جَنَازَةً لَمْ يَجْلِسْ حَتَّى تُوَضَعَ
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک جنازہ گزرا، سیّدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی وہاں سے گزرے اور انھوں نے کہا: اے امیر! کھڑے ہو جاؤ، یہ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی جنازہ کے ساتھ جاتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے،جب تک اس کو زمین پر نہ رکھ دیا جاتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3222]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11949»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے دوسرے طرق سے پتہ چلتا ہے کہ سیّدنا ابوہریرہ اور سیّدنا ابو سعیدdاور مروان سب نے اس میت کی نماز جنازہ ادا کی تھی، بلکہ مروان نے توا مامت کروائی تھی، جنازے کے بعد جب مروان بیٹھا تو اس کے ساتھ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی بیٹھ گئے، ممکن ہے کہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہا س کھڑے ہونے کو واجب نہ سمجھتے ہوں یا پھر انھوں نے مصلحت سے کام لیا ہو۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1309