🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَيِّتِ يُنْقَلُ أَوْ يُنْبَشُ لِغَرَضٍ صَحِيحٍ
کسی صحیح مقصد کے لیے میت کو منتقل کرنے یا اس کی قبر اکھاڑنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3332
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَتَى ابْنُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ إِنْ لَمْ تَأْتِهِ لَمْ نَزَلْ نُعَيَّرُ بِهَذَا، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُ قَدْ أُدْخِلَ فِي حُفْرَتِهِ، فَقَالَ: ( (أَفَلَا قَبْلَ أَنْ تُدْخِلُوهُ؟) ) ، فَأُخْرِجَ مِنْ حُفْرَتِهِ فَتَفَلَ عَلَيْهِ مِنْ قَرْنِهِ إِلَى قَدَمِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب عبداللہ بن ابی (منافق) مرا تو اس کا بیٹا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس نہ آئے تو ہمیں ہمیشہ عار دلائی جاتی رہے گی، پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لائے تو دیکھا کہ اس کو قبر میں رکھا جا چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے قبر میں داخل کرنے سے پہلے مجھے کیوں نہیں بلوا لیا تھا؟ پھر اسے قبر سے نکالا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس کے سر سے قدم تک اپنا لعاب لگایا اور اسے اپنی قمیص پہنا دی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3332]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1270، 1350، 5795، ومسلم: 2773، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14986، 15075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15049»
وضاحت: فوائد: … رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کے بیٹے عبد اللہ نے تبرک کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کا مطالبہ کیا تھا، جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق انھوں نے کہا تھا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلْبِسْ اَبِیْ قَمِیْصَکَ الَّذِیْ یَلِیْ جِلْدَکَ۔ یعنی: اے اللہ کے رسول! آپ میرے باپ کو وہ قمیص پہنائیں، جو آپ کے چمڑے سے لگتی رہی۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1270
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3333
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتُشْهِدَ أَبِي بِأُحُدٍ فَأَرْسَلْنَنِي أَخَوَاتِي إِلَيْهِ بِنَاضِحٍ لَهُنَّ، فَقُلْنَ: اذْهَبْ فَاحْتَمِلْ أَبَاكَ عَلَى هَذَا الْجَمَلِ فَأَدْفِنْهُ فِي مَقْبَرَةِ بَنِي سَلِمَةَ، قَالَ: فَجِئْتُهُ وَأَعْوَانٌ لِي، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ بِأُحُدٍ فَدَعَانِي وَقَالَ: ( (وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَا يُدْفَنُ إِلَّا مَعَ إِخْوَتِهِ) ) ، فَدُفِنَ مَعَ أَصْحَابِهِ بِأُحُدٍ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: غزوہ احد میں میرے ابو جان شہید ہو گئے، میری بہنوں نے مجھے ایک اونٹ دے کر بھیجا اور کہا: جاؤ اور اپنے اباجان کی میت کو اس اونٹ پر لاد کر بنوسلمہ کے قبرستان میں دفن کرو۔ پس میں اور میرے مدد گار آ گئے، لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ بات معلوم ہوئی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احد میں بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلاکر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان کو اپنے (شہید) بھائیوں کے ساتھ ہی دفن کیا جائے گا۔ پس انہیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3333]
تخریج الحدیث: «سناده ضعيف، عمر بن سلمة بن ابي يزيد وابوه مجھولان أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15331»

الحكم على الحديث: سناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں