الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ خَاصًّا بِإِكْمَالِ رَمَضَانَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا إِذَا غُمَّ عَلَى هِلَالِ شَوَّالٍ
جب بادلوں کی وجہ سے شوال کا چاندنظر نہ آئے تو رمضان کے تیس دن¤پورے کرنے کا خصوصی طور پر بیان
حدیث نمبر: 3688
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا چھوڑا کرو اور اگر چاند دکھائی نہ دے تو تیس روزے پورے کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3688]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1081، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7507»
الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 1081
حدیث نمبر: 3689
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ( (فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا) )
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سابق حدیث کی طرح ایک حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ: اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس دن شمار کر لیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3689]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابو يعلي: 2248، والبيھقي: 4/ 206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14526 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14580»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابو يعلي: 2248
حدیث نمبر: 3690
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ أَحَدُكُمْ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا، ثُمَّ أَفْطِرُوا) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان سے پہلے ایک یا دو روزے مت رکھو، ہاں اگر کوئی ایسا دن آ جائے جس میں تم میں سے کوئی آدمی روزہ رکھا کرتا ہو تو وہ روزہ رکھ لے، چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا ترک کیا کرو، اگر فضا ابر آلود ہو تو تیس دن پورے کر کے روزہ ترک کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3690]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1914، ومسلم: 1082، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10455»
وضاحت: فوائد: … ماہِ رمضان سے متصل پہلے روزے رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس کی وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔
الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 1914