الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ فَضْلِ تَعْجِيلِ الْفِطْرِ وَمَا يُسْتَحَبُّ الْإِفْطَارُ بِهِ
روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت اور اس امر کا بیان کہ کس چیز سے افطاری کرنا پسندیدہ ہے
حدیث نمبر: 3714
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ، إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک لوگ روزہ جلدی افطار کرتے رہیں گے، دین غالب رہے گا، یہودی اور عیسائی روزہ افطار کرنے میں تاخیر کر دیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3714]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2353، وابن ماجه: 1698، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9809»
الحكم على الحديث: صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2353
حدیث نمبر: 3715
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: میرے بندوں میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہیں جو سب سے جلدی روزہ افطار کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3715]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، قرة بن عبد الرحمن المعافري، الجمھور علي تضعيفه، وتساھل بعضھم فوثقه۔ اخرجه الترمذي: 700، 701، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7240»
وضاحت: فوائد: … سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُو الْفِطْرَ۔)) (بخاری: ۱۹۵۷، مسلم: ۱۰۹۸)”لوگ اس وقت تک خیر و بھلائی پر رہیں گے، جب تک جلدی افطاری کریں گے۔“
اور مسند احمد میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ((وَاَخَّرُوالسحور)) کے الفاظ بھی ہیں،یعنی افطاری میں جلدی کرنے کے ساتھ ساتھ وہ سحری میں تاخیر بھی کرتے ہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((بَکِّرُوْا بِاْلإِفْطَارِ، وَأَخِّرُوْا السُّحُوْرَ۔)) ”افطاری میں جلدی کرو، لیکن سحری میں تاخیر کرو۔“ (السیوطي في”الجامع الکبیر“، الدیلمی: ۲/ ۱/ ۳، صحیحہ:۱۷۷۳)
سو معلوم ہوا کہ غروب ِ آفتاب کے بعد فوراً افطاری کر لینی چاہیے، سحری میں تاخیر کرنے کا یہ معنی ہے کہ ا س کو آخری وقت میں کھایا جائے۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض فرقوں کییہ عادت ہے کہ وہ افطاری کو غروب ِ آفتاب سے مؤخر کرتے ہیں اور سحری کے بند ہونے کا اعلان وقت سے پہلے کر دیتے ہیں۔ ان روایات سے معلوم ہوا جو لوگ غروب ِ آفتاب کے فوراً بعد افطاری کرتے ہیں، وہ خیر و بھلائی پر ہیں۔
اور مسند احمد میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ((وَاَخَّرُوالسحور)) کے الفاظ بھی ہیں،یعنی افطاری میں جلدی کرنے کے ساتھ ساتھ وہ سحری میں تاخیر بھی کرتے ہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((بَکِّرُوْا بِاْلإِفْطَارِ، وَأَخِّرُوْا السُّحُوْرَ۔)) ”افطاری میں جلدی کرو، لیکن سحری میں تاخیر کرو۔“ (السیوطي في”الجامع الکبیر“، الدیلمی: ۲/ ۱/ ۳، صحیحہ:۱۷۷۳)
سو معلوم ہوا کہ غروب ِ آفتاب کے بعد فوراً افطاری کر لینی چاہیے، سحری میں تاخیر کرنے کا یہ معنی ہے کہ ا س کو آخری وقت میں کھایا جائے۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض فرقوں کییہ عادت ہے کہ وہ افطاری کو غروب ِ آفتاب سے مؤخر کرتے ہیں اور سحری کے بند ہونے کا اعلان وقت سے پہلے کر دیتے ہیں۔ ان روایات سے معلوم ہوا جو لوگ غروب ِ آفتاب کے فوراً بعد افطاری کرتے ہیں، وہ خیر و بھلائی پر ہیں۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3716
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ أَحْيَانًا يَبْعَثُهُ وَهُوَ صَائِمٌ فَيُقَدِّمُ لَهُ عَشَاءَهُ وَقَدْ نُودِيَ بِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ تُقَامُ وَهُوَ يَسْمَعُ فَلَا يَتْرُكُ عَشَاءَهُ وَلَا يَعْجَلُ حَتَّى يَقْضِيَ عَشَاءَهُ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي، قَالَ: وَقَدْ كَانَ يَقُولُ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ إِذَا قُدِّمَ إِلَيْكُمْ) )
۔ امام نافع کہتے ہیں: بسا اوقات ایسے ہوتا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روزہ سے ہوتے اور وہ مجھے کھانا لانے کے لیے بھیجتے، مغرب کی اذان اور پھر اقامت بھی ہو جاتی اور وہ سن رہے ہوتے مگر نہ کھانا چھوڑتے تھے اور نہ جلدی کرتے تھے، اطمینان سے کھانا کھانے کے بعد جا کر مغرب کی نماز ادا کرتے، اور وہ کہتے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: جب شام کا کھانا پیش کر دیا آجائے تو جلدی نہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3716]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 673،ومسلم: 559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6359 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6359»
وضاحت: فوائد: … عہد ِ نبوی میں لوگ شام کا کھانا مغرب سے پہلے کھاتے تھے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 673
حدیث نمبر: 3717
عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ (وَفِي لَفْظٍ:) فَإِنَّهُ لَهُ طَهُورٌ (وَفِي لَفْظٍ آخَرَ) فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ) )
۔ سیدنا سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی روزہ افطار کرے تو وہ کھجور کے ساتھ افطاری کرے، اگر کھجور دستیاب نہ ہو تو پانی سے افطاری کر لے، بیشک یہ خوب پاک کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3717]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرباب۔ اخرجه الترمذي: 695، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16335»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ ترتیب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فعلی سنت سے ثابت ہے: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُفْطِرُ عَلٰی رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَن یُّصَلِّیَ، فَإِن لَّمْ یَکُنْ رُطَبَاتٌ فَعَلٰی تَمَرَاتٍ فَإِن لَّمْ یَکُنْ حَسَا حَسَوَاتٍ مِّنْ مَائٍ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے سے پہلے تازہ کھجوروں کے ساتھ روزہ افطار کرتے تھے، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں کے ساتھ اور اگر وہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ (سنن اربعہ، صحیحہ: ۲۸۴۰)
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة الرباب۔ اخرجه الترمذي: 695