الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. بَابُ مَا جَاءَ فِي صَوْمِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ
نفلی روزوں اوران ایام کا بیان، جن میں نفلی روزے رکھنا مستحبّ ہیں سفر میں نفلی روزہ رکھنا
حدیث نمبر: 3890
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ زَحْزَحَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ بِذَلِكَ سَبْعِينَ خَرِيفًا) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عوض اسے جہنم سے ستر برس کی مسافت دور کر دیتاہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3890]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه النسائي: 4/ 172، وابن ماجه: 8690، والترمذي: 1622، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7977»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه النسائي: 4/ 172
حدیث نمبر: 3891
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3891]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2840، ومسلم: 1153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11581»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَصُوْمُ عَبْدٌ یَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِلَّا بَاعَدَ اللّٰہُ بِذَالِکَ الْیَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْھِہٖسَبْعِیْنَ خَرِیْفًا۔)) ”جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، تو وہ اس کے عوض آگ کو اس کے چہرے سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے۔“
”فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ“ (اللہ تعالیٰ کی راہ) سے مراد جہاد ہے یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت؟ حافظ ابن حجرنے کہا: اول الذکر معنی راجح ہے، کیونکہ میں ”فوائد ابی الطاھر الذھلی“ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ایک حدیث دیکھی ہے: ((مَا مِنْ مُرَابِطٍ یُرَابِطُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَصُوْمُیَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ …۔)) ”جو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں سرحدوں پر مقیم رہتا ہے اور اللہ کی راہ میں ایک روزہ رکھتا ہے، …۔“ ابن دقیق العید نے کہا: عرفِ اکثر میں اس لفظ کا استعمال جہاد کے لیے ہی ہوتا ہے۔ (فتح الباری: ۶/ ۵۹) یہ بات علیحدہ ہے کہ ایسی حالت میں روزہ رکھنے والے کو یہ فکر کرنی چاہیے کہ اس میں ایسی کمزوری پیدا نہ ہو جائے جو لڑتے وقت نقصان کا سبب بن سکے، بہرحال جس کو اللہ تعالیٰ نے عزم اور قوت سے نواز رکھا ہو، وہ دونوں فضیلتوں کو جمع کر سکتا ہے کہ شب و روز بھی راہِ جہاد میں گزر رہے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے جان بوجھ کر کھانا پینا بھی چھوڑ رکھا ہو۔
”فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ“ (اللہ تعالیٰ کی راہ) سے مراد جہاد ہے یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت؟ حافظ ابن حجرنے کہا: اول الذکر معنی راجح ہے، کیونکہ میں ”فوائد ابی الطاھر الذھلی“ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ایک حدیث دیکھی ہے: ((مَا مِنْ مُرَابِطٍ یُرَابِطُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَصُوْمُیَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ …۔)) ”جو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں سرحدوں پر مقیم رہتا ہے اور اللہ کی راہ میں ایک روزہ رکھتا ہے، …۔“ ابن دقیق العید نے کہا: عرفِ اکثر میں اس لفظ کا استعمال جہاد کے لیے ہی ہوتا ہے۔ (فتح الباری: ۶/ ۵۹) یہ بات علیحدہ ہے کہ ایسی حالت میں روزہ رکھنے والے کو یہ فکر کرنی چاہیے کہ اس میں ایسی کمزوری پیدا نہ ہو جائے جو لڑتے وقت نقصان کا سبب بن سکے، بہرحال جس کو اللہ تعالیٰ نے عزم اور قوت سے نواز رکھا ہو، وہ دونوں فضیلتوں کو جمع کر سکتا ہے کہ شب و روز بھی راہِ جہاد میں گزر رہے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے جان بوجھ کر کھانا پینا بھی چھوڑ رکھا ہو۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2840
حدیث نمبر: 3892
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: ( (ادْنُيَا فَكُلَا) ) ، قَالَا: إِنَّا صَائِمَانِ، قَالَ: ( (ارْحِلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ، اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مَرُّ الظَّہْرَانِ کے مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکراور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: قریب ہو جاؤ اور کھانا کھاؤ۔ انہوں نے کہا: ہم تو روزے دار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنے اِن ساتھیوں کو سواریاں دو اور ان کے حصے کا کام بھی کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3892]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح (نسائي: 2264)۔ أخرجه النسائي: 4/ 177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8436 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8417»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ چونکہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما روزے سے تھے، اس لیے دوسرے صحابہ کو چاہیے کہ وہ اِن کی خدمت کریں۔
الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح (نسائي: 2264)۔ أخرجه النسائي: 4/ 177
حدیث نمبر: 3893
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَاصْطَحَبَ هُوَ وَيَزِيدُ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ فِي سَفَرٍ وَكَانَ يَزِيدُ يَصُومُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِرَارًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا) )
۔ ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اور یزید بن ابی کبشہ ایک سفر میں اکٹھے ہو گئے، یزید تو سفر میں روزے رکھتا تھا، سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو کئی بار یہ بیان کرتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ بیمارہو جائے یا سفر میں ہو تو اسے اتنا ہی اجر ملتا رہتا ہے، جتنا اجر اسے اس عمل کا ملتا تھا، جو وہ اقامت اورصحت کی حالت میں کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3893]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2996، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19915»
وضاحت: فوائد: … جس آدمی کی نفلی عبادت اس کی بیمارییا سفر کی وجہ متأثر ہو جائے، تو بغیر عمل کے اس کو اجر و ثواب ملتا رہے گا۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2996