🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي فَضْلِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَتَأْكِيدِ صَوْمِهِ قَبْلَ نُزُولِ رَمَضَانَ
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3912
عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ، فَقَالَ: ( (مُرْ قَوْمَكَ بِصِيَامِ هَذَا الْيَوْمِ) ) ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُّهُمْ قَدْ طَعِمُوا؟ قَالَ: ( (فَلْيُتِمُّوا آخِرَ يَوْمِهِمْ) )
۔ سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیتے ہوئے فرمایا: اپنی قوم کو آج کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم دو۔ انھوں نے کہا: اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں تو پھر آپ کی رائے کیا ہو گی؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی وہ دن کے آخری یعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھ لیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3912]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 869، والبزار: 1048، وابن حبان: 3618، والحاكم: 3/ 592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16059»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 869
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3913
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ، فَقَالَ: ( (مُرْ قَوْمَكَ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ) ) ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُّهُمْ قَدْ طَعِمُوا؟ قَالَ: ( (فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ) )
۔ (دوسری سند) سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھیجا اور فرمایا: اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج کے دن کا روزہ رکھیں۔ انھوں نے کہا: اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں تو آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ بقیہ دن کا روزہ رکھ لیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3913]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16836»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا اسما بن حارثہ کو ان کے بیٹے سیدنا ہند کے ساتھ ان کی قوم کی طرف بھیجا ہو اور ہر ایک نے صرف اپنا اپنا تذکرہ کر دیا ہو۔
پہلے ایک حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہند بن اسماء کو اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ نے ہند کے باپ اسماء کو بھیجا تھا۔ فوائد میں اس ظاہری تعارض کی توجیہ پیش کی گئی ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16836
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3914
عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ يَوْمًا: ( (هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُومُوا) ) ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي تَرَكْتُ قَوْمِي مِنْهُمْ صَائِمٌ، وَمِنْهُمْ مُفْطِرٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اذْهَبْ إِلَيْهِمْ فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ) )
۔ بعجہ کے باپ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ان سے فرمایا: آج یومِ عاشوراء ہے، اس دن کا روزہ رکھو۔ بنو عمرو بن عوف کے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ ان میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے اور کسی نے نہیں رکھا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی طرف جاؤ اور ان کو کہو کہ جس نے روزہ نہیں رکھا ہوا وہ بقیہ دن کا روزہ رکھ لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3914]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه البزار: 1049، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 5679، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27646 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28198»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه البزار: 1049
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3915
عَنْ مَزِيدَةَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتْ أُمِّي: كُنْتُ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلَيْنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَصُومُوا
۔ مزیدہ بن جابر کہتے ہیں: میری والدہ نے بیان کیا ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں کوفہ کی مسجد میں تھیں، سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ وہاں کے حاکم تھے، انھوں نے ایک دن کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یومِ عاشوراء کو روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، اس لیے تم اس دن کا روزہ رکھو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3915]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2642، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 76، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19959»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2642
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3916
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَيَأْمُرُ بِهِ
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یومِ عاشوراء کا خود بھی روزہ رکھا کرتے تھے اور اس کا حکم بھی دیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3916]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه البزار: 602، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1069 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1069»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ اخرجه البزار: 602
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3917
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ غَيْرَ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَعْنِي عَاشُورَاءَ، وَهَذَا الشَّهْرَ شَهْرَ رَمَضَانَ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے دنوں کی بہ نسبت کسی مخصوص دن کی فضیلت کو تلاش کرتے ہوئے روزہ رکھا ہو، ما سوائے یومِ عاشوراء کے اور ماہِ رمضان کے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3917]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2006، ومسلم: 1132، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1938 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1938»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2006
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں