الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
59. بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِكْثَارِهِ الصَّوْمَ فِي شَعْبَانَ وَفَضْلِ الصِّيَامِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
حدیث نمبر: 3933
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ، وَمَا اسْتَكْمَلَ شَهْرًا قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر کثرت سے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر اس قدر طویل عرصہ تک روزہ چھوڑ دیتے کہ ہم سمجھتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نفلی روزے نہیں رکھیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے تھے اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کی بہ نسبت کسی دوسرے مہینے میں زیادہ روزے رکھے ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3933]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1969،ومسلم: 1156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25710»
الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 1969
حدیث نمبر: 3934
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ، بِنَحْوِهِ) وَزَادَتْ: كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كَلَّهُ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كَلَّهُ
۔ (دوسری سند) اس میں یہ اضافہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ شعبان میں شاذو نادر ہی کسی دن کا روزہ چھوڑتے تھے، بلکہ یوں کہہ دینا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پورے ماہِ شعبان کے روزے رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3934]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25614»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25614
حدیث نمبر: 3935
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سال کے کسی مہینہ میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گویا پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3935]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25049»
وضاحت: فوائد: … ان روایات میں ”کُلٌّ“ اور اس کے معانی پر دلالت کرنے والے دوسرے الفاظ مجازی معنی میں استعمال ہوئے ہیں، ان سے مراد اکثر دنوں کے روزے رکھنا ہیں۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25049
حدیث نمبر: 3936
وَعَنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ، وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض اوقات تو اس قدرکثرت سے روزے رکھتے کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے نہ چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے لمبے عرصے کے لیے روزے چھوڑ دیتے کہ ہمیں یہ خیال آنے لگتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر رات کو سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ زمر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3936]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه الترمذي: 2920، 3405، والنسائي: 4/ 199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25420»
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ اخرجه الترمذي: 2920
حدیث نمبر: 3937
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: كَانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانُ، ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نفلی روزے رکھنے کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ شعبان کا مہینہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ماہ میں روزے رکھ کر اسے ماہِ رمضان کے ساتھ ملا دیتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3937]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2431، والنسائي: 4/ 199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26064»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2431
حدیث نمبر: 3938
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سُئِلَتْ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ وَيَتَحَرَّى الْإِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ
۔ خالد بن معدان کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا کیا گیا، انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ شعبان میں روزے رکھتے تھے اور سوموار اور جمعرات کے دنوں کے روزے کا خصوصی اہتمام کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3938]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه الترمذي: 745، والنسائي: 4/ 203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25013»
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ اخرجه الترمذي: 745
حدیث نمبر: 3939
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان اور رمضان کے مہینوں میں روزے رکھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3939]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1648، والنسائي: 4/200، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27052»
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1648
حدیث نمبر: 3940
وَعَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَامَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے ہوں، ماسوائے اس صورت کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان کو رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3940]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الترمذي: 736، والنسائي: 4/ 150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26562 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27097»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ اخرجه الترمذي: 736
حدیث نمبر: 3941
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فَلَا يُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: مَا فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرَ الْعَامَ، ثُمَّ يُفْطِرُ فَلَا يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: مَا فِي نَفْسِهِ أَنْ يَصُومَ الْعَامَ، وَكَانَ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَيْهِ فِي شَعْبَانَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بغیر ناغہ کیے اس انداز میں نفلی روزے رکھنا شروع کر دیتے، کہ ہم کہنے لگتے کہ اس سال تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ کوئی روزہ ترک نہ کرنے کا ہے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس تسلسل کے ساتھ) روزے چھوڑنا شروع کر دیتے کہ ہم کہنے لگتے کہ اس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی روزہ نہیں رکھنا۔ ماہِ شعبان کے روزے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ پسند تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3941]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عثمان بن رشيد ضعّفه يحيي بن معين۔ اخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 4763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13403 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13436»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3942
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَمْ أَرَكَ تَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ؟ قَالَ: ( (ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ يُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ) )
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا ہے کہ آپ ماہِ شعبان میں باقی مہینوں کی بہ نسبت زیادہ روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ، جو رجب اور رمضان کے وسط میں ہے، اس سے لوگ غافل ہیں،یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس میں لوگوں کے اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اوپر جائیں کہ میں روزہ سے ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3942]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ اخرجه النسائي: 4/ 201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22096»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں شعبان میں روزے رکھنے کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ اس باب کی احادیث سے پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھا کرتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کے دوسرے نصف میں روزے رکھنے سے منع بھی کیا ہے، جیسا کہ اگلے باب کی احادیث سے معلوم ہو گا۔ جمع تطبیق کے لیے حدیث نمبر (۳۶۹۲)دیکھیں۔
ایک اشکال اور اس کا جواب:
اللہ تعالیٰ کے حضور اعمال کے پیش ہونے کے بارے میں تین قسم کی احادیث مروی ہیں: (۱)ہر روز، (۲) ہر سوموار اور جمعرات کو اور (۳) شعبان میں۔ یہ تینوں احادیث برحق ہیں، ہر روز کا اورپھر تین تین دنوں کاعلیحدہ علیحدہ ریکارڈ پیش کیا جاتا ہے، پھر سال کے بعد سال کا حساب و کتاب پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس نظام کی حکمتوںکا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
ایک اشکال اور اس کا جواب:
اللہ تعالیٰ کے حضور اعمال کے پیش ہونے کے بارے میں تین قسم کی احادیث مروی ہیں: (۱)ہر روز، (۲) ہر سوموار اور جمعرات کو اور (۳) شعبان میں۔ یہ تینوں احادیث برحق ہیں، ہر روز کا اورپھر تین تین دنوں کاعلیحدہ علیحدہ ریکارڈ پیش کیا جاتا ہے، پھر سال کے بعد سال کا حساب و کتاب پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس نظام کی حکمتوںکا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ اخرجه النسائي: 4/ 201