🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

78. الْفَصْلُ الثَّانِي فِيمَا جَاءَ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ أَوْ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4017
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفِي رَمَضَانَ هِيَ أَوْ فِي غَيْرِهِ؟، قَالَ: ( (بَلْ هِيَ فِي رَمَضَانَ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: تَكُونُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ مَا كَانُوا، فَإِذَا قُبِضُوا رُفِعَتْ أَمْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: ( (بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: فِي أَيِّ رَمَضَانَ هِيَ؟ قَالَ: ( (الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَّلِ، أَوْ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ) ) ، ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ ثُمَّ اهْتَبَلْتُ غَفْلَتَهُ، قُلْتُ: فِي أَيِّ الْعِشْرِينَ هِيَ؟ قَالَ: ( (ابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا) ) ، ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ وَحَدَّثَ ثُمَّ اهْتَبَلْتُ غَفْلَتَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِحَقِّي عَلَيْكَ لَمَا أَخْبَرْتَنِي فِي أَيِّ الْعَشْرِ هِيَ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلَيَّ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ مِثْلَهُ مُنْذُ صَحِبْتُهُ أَوْ صَاحَبْتُهُ، كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَ: ( (الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا) )
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! مجھے شب ِ قدر کے بارے میں بتلائیں کہ یہ ماہِ رمضان میں ہوتی ہے یا کسی اور مہینے میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ماہِ رمضان میں ہوتی ہے۔ میں نے کہا: کیایہ رات اس وقت تک ہوتی ہے، جب تک اللہ کے نبی دنیا میں موجود ہوں اور جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو جائیں تو یہ بھی اٹھا لی جاتی ہے یایہ قیامت تک باقی رہے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ تو قیامت تک باقی رہے گی۔ میں نے کہا: یہ ماہِ رمضان کے کس حصہ میں ہوتی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے پہلے یا آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف باتیں بیان کیں، لیکن بیچ میں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مصروفیت سے وقتی عدم توجہ کو غنیمت سمجھتے ہوئے اچانک یہ سوال کر دیا کہ ان بیس راتوں میں سے کونسی شب ِ قدر ہو سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرو، اب اس کے بعد مجھ سے کوئی سوال نہ کرنا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید گفتگو جاری رکھی اور میں نے پھر موقع پا کر اور آپ کی مصروفیت سے وقتی عدم توجہ کو غنیمت جان کر یہ سوال کر دیا کہ اے اللہ کے رسول! میرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو حق ہے، میں اس کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مجھے بتلا دیں کہ ان دس راتوں میں قدر والی رات کون سی ہے؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مجھ پر اس قدر غصہ آیا کہ جب سے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں تھا، کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر اس قدر غضبناک نہیں ہوئے تھے، بہرحال پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیتے ہوئے فرما دیا کہ: تم اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرو، اب اس کے بعد کوئی سوال نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4017]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مرثد بن عبد الله الزماني، لم يرو عنه سوي ابنه مالك، قال الذھبي: فيه جھالة، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 3427، والبزار في ’’مسنده‘‘: 4068، وابن خزيمة: 2170، والحاكم: 1/ 437، والبيھقي: 4/ 307، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21499 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21831»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ قدیم صحبت والے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصے کی وجہ ان کا اصرار کے ساتھ سوال کرنا تھا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو منع بھی کر چکے تھے، لیکن شب ِ قدر کی معرفت اور حصول علم کی حرص ان کو مزید سوال پر آمادہ کر رہی تھی۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4018
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَرَوْنَ الرُّؤْيَا فَيَقُصُّونَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (إِنِّي أَوْ قَالَ: أَسْمَعُ رُؤْيَاكُمْ تَوَاطَأَتْ عَلَى السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُتَحَرِّيهَا، فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگ مختلف خواب دیکھتے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان کرتے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے خواب سن رہا ہوں، یہ ماہِ رمضان کی آخری سات راتوں سے موافقت رکھتے ہیں، لہذا تم میں سے جو آدمی شب ِ قدر کو تلاش کرنا چاہتا ہے، وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4018]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2015، ومسلم: 1165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4499 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4499»

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 2015
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4019
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ، فِي التِّسْعِ الْغَوَابِرِ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شب ِ قدر کو آخری دس یا آخری نو راتوں میں تلاش کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4019]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4925»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4925
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4020
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِمْ مُسْرِعًا، قَالَ: حَتَّى أَفْزَعَنَا مِنْ سُرْعَتِهِ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا قَالَ: جِئْتُ مُسْرِعًا أُخْبِرُكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَلَكِنِ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنی تیزی سے صحابہ کی طرف آئے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلدی کو دیکھ کر گھبرا گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس پہنچے تو فرمایا: میں تمہیں شب ِ قدر سے آگاہ کرنے کے لیے تیزی سے آرہا تھا، لیکن جو چیز تمہیں بتانا چاہتا تھا وہ راستہ میں مجھے بھلا دی گئی، بہرحال تم اس رات کو ماہِ رمضان کے آخری دھاکے میں تلاش کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4020]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني: 12621، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2352»
وضاحت: فوائد: … بھول جانے کی وجہ یہ تھی کہ دو آدمی جھگڑ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُدھر مصروف ہوئے تو شب ِ قدر کی علامتیں بھلا دی گئیں۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني: 12621
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4021
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (اطْلُبُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَإِنْ غُلِبْتُمْ، فَلَا تُغْلَبُوا عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي) )
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شب ِ قدر کو ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کیا کرو، اگر تم ایسا کرنے سے مغلوب ہو جاؤ تو آخری سات دنوں میں اس کو تلاش کرنے سے پیچھے نہ رہنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4021]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1111»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں