الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ الْحَجِّ لِلْمُسْتَطِيعِ
صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والے کے حق میں وعید کا بیان
حدیث نمبر: 4093
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: ( (لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں حج چھوڑنا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4093]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 1729، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2843 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2844»
وضاحت: فوائد: … ”صَرُوْرَۃ“، ”صرّ“ سے ماخوذ ہے، اس کا معانی روکنے اور منع کرنے کے ہیں،یعنی جو آدمی استطاعت کے باوجود حج کو ترک کر دیتا ہے، وہ اپنے نفس کو خیر سے روک دیتا ہے۔ یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ ایسی گنجائش پیدا کر لینا ان لوگوں کی صفت ہے جو اپنے خزانے پر سانپ بن کر بیٹھ گئے ہیں اور اپنی ذات کو اپنا روزی رساں سمجھتے ہیں،یہ ایسے بے رغبت لوگ ہیں کہ جن میں بیت اللہ اور مسجد نبوی کی زیارت کی تڑپ معدوم ہو گئی ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل حدیث مبارکہ بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے: سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((إِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: إِنَّ عَبْدًا أَصْحَحْتُ لَہٗجِسْمَہٗ،وَوَسَّعْتُعَلَیْہِ فِیْ الْمَعِیْشَۃِ، تَمْضِیْ عَلَیْہِ خَمْسَۃُ أَعْوَامٍ لَایَفِدُ إِلَیَّ، لَمَحْرُوْمٌ۔)) (بیہقي۵/ ۲۶۲، ابن حبان: ۹۶۰، صحیحہ: ۱۶۶۲)
”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:میں نے ایک بندے کا جسم تندرست رکھا، اس کی معیشت میں وسعت پیدا کی، لیکن اس حالت میں پانچ سال بیت گئے اوروہ میری طرف نہیں آیا، ایسا آدمی محروم ہے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا:
((لَقَدْ ھَمَمْتُ اَنْ اَبْعَثَ رِجَالًا اِلٰی اَھْلِ الْاَمْصَارِ فَیَنْظُرُوْا کُلَّ مَنْ کَانَ لَہٗجِدَۃٌ وَلَمْ یَحُجَّ فَیَضْرِبُوْا عَلَیْہِ الْجِزْیَۃَ مَا ھُمْ بِمُسْلِمِیْنَ، مَا ھُمْ بِمُسْلِمِیْنَ۔))
میں نے ارادہ کیا ہے کہ کچھ لوگوں کو شہر والوں کی طرف بھیجوں، پس وہ دیکھیں کہ کون لوگ مالی وسعت کے باوجود حج نہیں کرتے، پھر وہ ان پر جزیہ لگا دیں،یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں،یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں۔
((إِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: إِنَّ عَبْدًا أَصْحَحْتُ لَہٗجِسْمَہٗ،وَوَسَّعْتُعَلَیْہِ فِیْ الْمَعِیْشَۃِ، تَمْضِیْ عَلَیْہِ خَمْسَۃُ أَعْوَامٍ لَایَفِدُ إِلَیَّ، لَمَحْرُوْمٌ۔)) (بیہقي۵/ ۲۶۲، ابن حبان: ۹۶۰، صحیحہ: ۱۶۶۲)
”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:میں نے ایک بندے کا جسم تندرست رکھا، اس کی معیشت میں وسعت پیدا کی، لیکن اس حالت میں پانچ سال بیت گئے اوروہ میری طرف نہیں آیا، ایسا آدمی محروم ہے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا:
((لَقَدْ ھَمَمْتُ اَنْ اَبْعَثَ رِجَالًا اِلٰی اَھْلِ الْاَمْصَارِ فَیَنْظُرُوْا کُلَّ مَنْ کَانَ لَہٗجِدَۃٌ وَلَمْ یَحُجَّ فَیَضْرِبُوْا عَلَیْہِ الْجِزْیَۃَ مَا ھُمْ بِمُسْلِمِیْنَ، مَا ھُمْ بِمُسْلِمِیْنَ۔))
میں نے ارادہ کیا ہے کہ کچھ لوگوں کو شہر والوں کی طرف بھیجوں، پس وہ دیکھیں کہ کون لوگ مالی وسعت کے باوجود حج نہیں کرتے، پھر وہ ان پر جزیہ لگا دیں،یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں،یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 1729