🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ كَمْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعْتَمَرَ
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4110
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ، وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً، حَجَّةَ الْوَدَاعِ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَبِمَكَّةَ أُخْرَى
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انیس غزوے کیے اور ہجرت کے بعد صرف ایک حج کیا، جو کہ حجۃ الوداع تھا۔ ابو اسحاق نے کہا: ایک حج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (قبل از ہجرت) مکہ میں کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4110]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1254، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19513»
وضاحت: فوائد: … کتاب السیرۃ النبویۃ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غزووں کی تفصیل آئے گی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد بالاتفاق ایک ہی حج کیا تھا، جس کو حجۃ الوداع کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فریضہ۱۰ ھ میں ادا کیا تھا۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1254
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4111
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا: كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَرْبَعًا، عُمْرَتَهُ الَّتِي صَدَّهُ عَنْهَا الْمُشْرِكُونَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَتَهُ أَيْضًا فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَتَهُ حِينَ قَسَمَ غَنِيمَةَ حُنَيْنٍ مِنَ الْجِعْرَانَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَتَهُ مَعَ حَجَّتِهِ
۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ انہوں نے کہا: چار،پہلا وہ عمرہ جس سے مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک دیا تھا، یہ ذی قعدہ میں تھا، دوسرا جو اگلے سال کیا تھا، یہ بھی ذی قعدہ میں تھا، تیسرا جو غزوۂ حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت جعرانہ سے کیا تھا اور یہ بھی ذی قعدہ میں تھا، اور چوتھا جو آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4111]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1778، 1779، 1780، ومسلم: 1253، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13600»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1778
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4112
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَّةِ، وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ وَالثَّالِثَةَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ، وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار عمرے کئے، ایک عمرۂ حدیبیہ، دوسرا عمرۂ قضا، تیسرا جعرانہ مقام سے اور چوتھا حج کے ساتھ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4112]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1778، 1779، 1780، ومسلم: 1253، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2954»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کل چار عمرے کیے:
۱۔ عمرۂ حدیبیہ، جوکہ مکمل نہیں ہوا تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راستے سے واپس آ گئے تھے، یہ ذوالقعدہ ۶ھ کا واقعہ تھا۔
۲۔ عمرۂ قضائ، یہ وہ عمرہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے معاہدے کے مطابق اگلے سال ادا کیا تھا، یہ ذوالقعدہ۷ھ کا واقعہ تھا، اس سے مراد قضائی والا عمرہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ مشرکوں کے ساتھ قضاء (فیصلہ) کے نتیجے میں ہوا تھا۔
۳۔ عمرۂ جعرانہ،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف سے فارغ ہو کر جعرانہ مقام پر پہنچے اور وہاں پڑاؤ ڈالا تو
اس دوران یہ عمرہ ادا کیا تھایہ فتح مکہ کے بعد۸ھ میں پیش آیا تھا۔
۴۔ حجۃ الوداع کے ساتھ والا عمرہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج قران کیا تھا، یعنی ایک ہی احرام میں حج اور عمرہ کی ادائیگی مکمل کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ۱۰ ھ میں حجۃ الاسلام ادا کیا تھا۔
ہر عمرے کی اس کی مخصوص باب میں وضاحت آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1778
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4113
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ، كُلُّ ذَلِكَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ يُلَبِّي حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین عمرے کئے تھے اور یہ سارے ذوالقعدہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تلبیہ جاری رکھتے، یہاں تک حجرِ اسود کا استلام کر لیتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4113]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6686»
وضاحت: فوائد: … انھوں نے حج کے ساتھ والا عمرہ شمار نہیں کیا، معلوم ہوا کہ عمرہ کے موقع پر احرام باندھنے سے لے کر طواف شروع کرنے تک تلبیہ جاری رکھا جائے گا۔

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4114
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَلَقَدْ اعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذی قعدہ میں ہی عمرے کئے تھے اور کل تین عمرے کیے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4114]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه: 2997، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25910 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26435»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں بھی حجۃ الوداع والے عمرے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4115
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سُئِلَ كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَرَّتَيْنِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِ اعْتَمَرَ ثَلَاثَةً، سِوَى الَّتِي قَرَنَهَا بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ
۔ مجاہد کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ تو انہوں نے کہا: دو، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہ کو علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج والے عمرے کے علاوہ کل تین عمرے کئے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4115]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد۔ أخرجه ابوداود: 1992، وأخرجه البخاري: 1775، 1776، 4253، 4254، ومسلم: 1255 مطولا بلفظ: يا ام المؤمنين! الا تسمعي ما يقول ابوعبد الرحمن؟ يقول: اعتمر رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم اربعا، احداھن في رجب؟ فقالت: يرحم الله ابا عبد الرحمن، أما انه لميعتمر عمرة الا وھو شاھدھا، وما اعتمر شيئا في رجب۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5383»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی ایک حدیث کے مطابق سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چار عمروں کا تذکرہ کیا ہے، اس حدیث میں حدیبیہ اور حجۃ الوداع والے عمروں کا تذکرہ نہیں کیا گیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اول الذکر سے روک لیا گیا تھا اور مؤخر الذکر حج کے ساتھ ملا ہوا تھا، دوسرے دو عمروں کی طرح مستقل نہیں تھا۔

الحكم على الحديث: صحيح بالشواھد ۔ أخرجه ابوداود: 1992
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں