الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. فَصْلٌ مِنْهُ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ
عمرۂ قضاء کا بیان
حدیث نمبر: 4118
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ اعْتَمَرَ، فَطَافَ وَطُفْنَا مَعَهُ، وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَا يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ کیا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کیا تو ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ طواف کیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی تو ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی کی، ہم نے اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیرے میں لئے رکھا تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مکہ والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی نقصان پہنچا دیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4118]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4188، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19340»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4188
حدیث نمبر: 4119
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فِي عُمْرَتِهِ؟ قَالَ: لَا
۔ اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھاکہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کے موقع پر بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4119]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1600، 1791، ومسلم: 1332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19336»
وضاحت: فوائد: … اس عمرہ کو عمرۂ قضیہ، عمرۂ صلح اور عمرۂ قصاص بھی کہتے ہیں، عمرۂ قضاء کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ یہ عمرہ اس فیصلے کے مطابق تھا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر مشرکوں کے ساتھ کیا تھا، اس سے مراد قضائی والا عمرہ نہیں ہے، کیونکہ جس کو راستے میں روک دیاجائے، اس پر قضائی واجب نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ ٔ قضاء کے موقع پر کعبہ میں داخل نہیں ہوئے تھے، فتح مکہ کے موقع پر داخل ہوئے تھے، حجۃ الوداع کے موقع پر ایسے ہوا تھا یا نہیں، اس میں اختلاف ہے، وضاحت آ گے آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1600