الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ مَوَاقِيتِ الْإِحْرَامِ الْمَكَانِيَّةِ
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
حدیث نمبر: 4148
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْأَخْنَسِيِّ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ حَكِيمِ ابْنَةِ أُمَيَّةَ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ أَهَلَّ مِنَ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى بِعُمْرَةٍ أَوْ بِحَجَّةٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) ) ، قَالَ: فَرَكِبَتْ أُمُّ حَكِيمٍ عِنْدَ ذَلِكَ الْحَدِيثِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ
۔ (دوسری سند) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے مسجد اقصیٰ سے عمرہ یا حج کا احرام باندھا، اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دے گا۔ یہ حدیث سن کر ام حکیم بیت المقدس کے لیے روانہ ہو گئیں اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر آئیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4148]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27093»
وضاحت: فوائد: … یہ روایات ضعیف ہیں، مسجد ِ اقصی کا حج و عمرہ کے احرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27093
حدیث نمبر: 4149
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (ارْحَلْ هَذِهِ النَّاقَةَ، ثُمَّ أَرْدِفْ أُخْتَكَ فَإِذَا هَبَطْتُمَا مِنْ أَكَمَةِ التَّنْعِيمِ فَأَهِلَّا وَأَقْبِلَا) ) ، وَذَلِكَ لَيْلَةَ الصَّدَرِ
۔ سیدناعبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی پر سوار ہو جاؤ اوراپنی بہن عائشہ کو اپنے پیچھے بٹھا لو، پھر جب تم تنعیم کے ٹیلے سے اترو تو احرام باندھ لو اور (عمرہ کے لیے) آ جاؤ۔ یہ روانگی والی رات کی بات تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4149]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1784، 2985، ومسلم: 1212، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1709»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1784
حدیث نمبر: 4150
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) ، بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: ( (فَإِذَا هَبَطْتَ بِهَا مِنَ الْأَكَمَةِ فَلْتُحْرِمْ فَإِنَّهَا عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ) )
۔ (دوسری سند) یہ حدیث بھی سابق حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں ہے: جب تم تنعیم کے ٹیلے سے اترو تو عائشہ احرام باندھ لے، پس بیشک یہ عمرہ مقبول ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4150]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1710»
وضاحت: فوائد: … حج و عمرہ کے مکانی مواقیت کا ذکر اس باب میں کیا گیا ہے، مسئلہ بالکل واضح ہے کہ جو آدمی ان مواقیت کے اندر رہتا ہے، وہ اپنی رہائش گاہ سے احرام باندھ لے گا اور جو ان مواقیت سے باہر رہتا ہے، وہ احرام کے ساتھ ان کو عبور کرے گا۔ رہا مسئلہ زمانی مواقیت کا تو عمرہ کے لیے تو ہر وقت احرام باندھا جا سکتا ہے، لیکن حج کے لیے صرف حج والے مہینوں میں احرام باندھا جائے گا۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1710