🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الْإِحْرَامِ بَيْنَ التَّمَتُّعِ وَالْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4177
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِحَجَّةٍ فَلْيُهِلَّ فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ) ) ، قَالَتْ: فَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ، وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ) ) ، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَرْدَفَهَا فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا، فَقَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَوْمٌ، وَلَا صَدَقَةٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے والا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حج کے لئے روانہ ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی عمرہ کرنا چاہتا ہو، وہ عمرہ کا احرام باندھ لے اور جو آدمی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے، رہا مسئلہ میرا تو اگر میں قربانی کا جانور ہمراہ نہ لایا ہوتا تو میں بھی صرف عمرہ کا احرام باندھتا۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: چنانچہ بعض صحابہ نے عمرے کا اور بعض نے حج کا احرام باندھا،میں نے بھی عمرے کا احرام باندھا تھا، لیکن ہوا یوں کہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مجھے حیض آ گیا اور اسی حالت میں عرفہ کا دن آنے والا ہو گیا، میں نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عمرے کو چھوڑ دو، اپنا سر کھول کر کنگھی کرو اورحج کا احرام باندھ لو۔ چنانچہ میں نے اسی طرح کیا،جب وادیٔ محصب والی رات تھی، توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بھائی عبد الرحمن کو میرے ہمراہ تنعیم کی طرف بھیجا، انہوں نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا، میں نے عمرے کا احرام باندھا، یہ عمرہ دراصل پہلے والے عمرے کے عوض میں تھا، اس طرح اللہ تعالی نے میرا حج اور عمرہ دونوں کرا دیئے، جبکہ اس صورت میں نہ تو ہدی تھی، نہ روزہ اور نہ صدقہ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4177]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 317، 1783، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26105»
وضاحت: فوائد: … حدیث کے آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے احرام کے دوران احرام کی وجہ سے کسی ممنوعہ چیز کا ارتکاب نہیں کیا، جیسے خوشبو لگانا، شکار قتل کرنا، بالوں اور ناخنوں کو کاٹنا وغیرہ وغیرہ۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 317
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4178
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذِي الْحُلَيْفَةِ، قَالَ: ( (مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ) ) ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: وَكُنْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ وَالْمِقْدَادُ وَالزُّبَيْرُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو روانہ ہوئے، جب ہم ذو الحلیفہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے اور تم میں سے جو فرد عمرے کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ عمرے کا احرام باندھ لے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں، سیدہ عائشہ، سیدنا مقداد اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم اجمعین نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ (مسند احمد: 27502) [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4178]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بهذه السياقة من حديث اسماء، لجهالة عبادة بن المهاجر، وابن لهيعة سييء الحفظ، وقوله: ((مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ)) صحيح من حديث عائشة - أخرجه البخاري: 1796، و مسلم: 1237: بلفظ: .... انه كان يسمع اسماء كلما مرت بالحجون تقول: لقد نزلنا معه ها هنا ونحن يومئذ خفاف الحقائب، قليل ظهرنا، قليلة ازوادنا، فاعتمرت انا واختي عائشة والزبير، وفلان وفلان، فلما مسحنا البيت احللنا، ثم اهللنا من العشي بالحج -، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26962 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27502»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف بهذه السياقة من حديث اسماء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں