🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. بَابُ نَزْعِ الْمَخِيطِ لِلْمُحْرِمِ وَمَا لَا يَجُوزُ لَهُ مِنَ الثِّيَابِ وَالطِّيبِ
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4254
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: وَجَدَ ابْنُ عُمَرَ الْقُرَّ، وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ: أَلْقِ عَلَيَّ ثَوْبًا، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَأَخَّرَهُ، وَقَالَ: تُلْقِي عَلَيَّ ثَوْبًا قَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهُ الْمُحْرِمُ
۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو احرام کی حالت میں شدید سردی محسوس ہونے لگی، اس لیے انھوں نے کہا: مجھ پر کوئی کپڑا ڈالو، میں نے ان کے اوپر کوٹ ڈال دیا،لیکن انہوں نے اسے ہٹا دیا اور کہا: تم مجھ پر ایسا کپڑا ڈال رہے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرم کو جس کو پہننے سے منع فرمایا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4254]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه البخاري: 5794، 5805، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4856 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4856»
وضاحت: فوائد: … کپڑے کو اوپر ڈالنے سے پہننا تو لازم نہیں آتا۔
معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے احتیاط کرتے ہوئے اپنے اوپر بھی کوٹ کر رکھنا پسند نہیں کیایا پھر انہوں نے سمجھا ہوگا کہ جن کپڑوں سے محرم کو روکا گیا ہے وہ کسی شکل میں بھی اس کے لیے استعمال کرنے جائز نہیں۔ بہرحال اصل میں تو پہننے سے ہی روکا گیا ہے، تاکہ ہر قسم کے استعمال سے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه البخاري: 5794
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4255
عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْتَنِي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ، مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، مِنْهُمْ عُمَرُ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ (وَفِي لَفْظٍ: وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِخَلُوقٍ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ) قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ سَكَتَ، فَجَاءَهُ الْوَحْيُ، فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى أَنْ تَعَالَ، فَجَاءَهُ يَعْلَى فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ (وَفِي لَفْظٍ قَالَ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُمْ فِي السِّتْرِ) فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ كَذَلِكَ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: ( (أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا؟) ) فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ، فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ) )
۔ صفوان بن یعلی بن امیہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنایعلی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے کہ میری خواہش ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو تو میں اس کیفیت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھوں۔ بعد میں ایک دن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ مقام میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر ایک کپڑے سے سایہ کیا گیا تھا، صحابہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، اسی دوران ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، جبکہ اس نے ایک جبہ پہنا ہوا تھا اور اس سے خوشبو آ رہی تھی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے جس نے اچھی طرح خوشبو ملنے کے بعد جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا اور پھر خاموش ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہو گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنایعلی رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا کہ ادھر آؤ، چنانچہ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ آئے اور اپنا سر کپڑے کے اندر داخل کر لیا، انھوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خراٹے لے رہے تھے، کچھ دیریہی کیفیت رہی، بعد ازاں یہ زائل ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ابھی عمرہ کے بارے میں پوچھ رہا تھا، وہ کہاں ہے؟ جب اس شخص کو تلاش کرکے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر جو خوشبو لگی ہوئی ہے، اسے تین دفعہ اچھی طرح دھو ڈالو، اور یہ جبہ اتار دو اور عمرہ کے لئے باقی سارے کام اسی طرح کرو جیسے حج میں کرتے ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4255]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1536، 4329، ومسلم: 1180، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18112»
وضاحت: فوائد: … ”مُقَطَّعَاتٌ“ سے مرادسلے ہوئے کپڑے ہیں، صحیح مسلم کی روایت میں جبّہ کے ساتھ اس کی تفسیر بیان کی گئی ہے، اس لیے ہم نے ترجمہ کرتے ہوئے جُبَّہ کا ذکر کر دیا ہے۔ ”عمرہ کے لئے باقی سارے کام اسی طرح کرو جیسے حج میں کرتے ہو۔“ اس سے مراد یہ ہے جیسے حج میں طواف، سعی اور حجامت جیسے افعال کرتے ہو، اسی طرح عمرے میں بھی کرو، یا اس کا مفہوم یہ ہے کہ حج کے احرام میں جن امور سے اجتناب کرتے ہو، عمرے کے احرام میں بھی ان سے اجتناب کرو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1536
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4256
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَطَاءٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَحْرَمْتُ فِيمَا تَرَى وَالنَّاسُ يَسْخَرُونَ مِنِّي، وَأَطْرَقَ هُنَيْهَةً، قَالَ: ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ: ( (اخْلَعْ عَنْكَ هَذِهِ الْجُبَّةَ وَاغْسِلْ عَنْكَ هَذَا الزَّعْفَرَانَ وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ) )
۔ (دوسری سند) سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، جبکہ اس نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس پر زعفران کی خوشبو کے نشانات واضح تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے جس حال میں دیکھ رہے ہیں، میں نے اسی حالت میں احرام باندھا ہے، جبکہ لوگ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: تم یہ جبہ اتار دو اور اس زعفران کو دھو ڈالو اورعمرہ میں باقی کام اسی طرح انجام دو، جیسے حج میں کرتے ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4256]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18128»
وضاحت: فوائد: … لوگوں کے مذاق کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس نے بے علمی کی وجہ سے احرام کی حالت میں جُبّہ پہنا ہوا تھااور خوب زعفران لگائی ہوئی تھی، جبکہ یہ احکام دوسرے صحابہ کے لیے معروف تھے۔ حدیث نمبر (۴۱۶۱)میں اس حدیث سے متعلقہ احکام بیان کیے جا چکے ہیں۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18128
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4257
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی (حج کے سفر میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، اسے اس کی اونٹنی نے گرایا اور وہ اس وجہ سے احرام کی حالت میں ہی فوت ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر اس کے انہی دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اسے خوشبو لگاؤ نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ یہ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4257]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1851، ومسلم: 1206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1850»
وضاحت: فوائد: … احرام کی حالت میں وفات پانے والے کے کتنے خوبصورت احکام بیان کیے جا رہے ہیں، ایسے لگ رہا ہے کہ یہ شخص مرنے کے بعد بھی محرِم ہے، اس پر مستزاد یہ کہ یہ جس حالت میں فوت ہوا، قیامت والے دن اسی حالت پر اٹھے گا اور اس پر حج کی علامت موجود ہو گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1851
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4258
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدَّهِنُ عِنْدَ الْإِحْرَامِ بِالزَّيْتِ غَيْرِ الْمُقَطَّرِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام باندھتے وقت ایسا تیل لگایا کرتے تھے، جو خوشبو والا نہیں ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4258]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي۔ أخرجه الترمذي: 962، وابن ماجه: 3083، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4783 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4783»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس قسم کے تیل وغیرہ کی پابندی کوئی نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي ۔ أخرجه الترمذي: 962
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں