🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. الْفَصْلُ الثَّانِي فِي طَوَافِ الْقَارِنِ
حج قران کرنے والے کا طواف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4373
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ قَرَنَ بَيْنَ حَجَّتِهِ وَعُمْرَتِهِ أَجْزَأَهُ لَهُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوشخص حج قران کرے، اس کے لئے حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک طواف کافی ہے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4373]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفا بھذا اللفظ، عبد العزيز الدراوردي حديثه عن عبيد الله بن عمر منكر۔ أخرجه ابن ماجه: 2975، والترمذي: 948، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5350 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5350»
وضاحت: فوائد: … جامع ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((مَنْ اَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ اَجَزَأَہٗطَوَافٌوَاحِدٌوَسَعْیٌ وَاحِدٌ عَنْھُمَا حَتّٰییَحِلَّ مِنْھُمَا جَمِیْعًا۔)) … جو آدمی حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھے گا، اس کو ایک طواف اور ایک سعی کفایت کریں گے اور وہ دونوں سے اکٹھا حلال ہو گا۔“ امام البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح موقوفا بھذا اللفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4374
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمْ يَطُفِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَهُ الْأَوَّلَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا مروہ کی ایک ہی سعی کی تھی، جو کہ شروع میں کر لی تھی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4374]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14467»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1215
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4375
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ لَمْ نَقْرَبِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ آئے اور ہم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی، قربانی والے دن یعنی دس ذوالحجہ کو ہم صفامروہ کے قریب تک نہیں گئے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4375]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه اخرجه الدارقطني: 2/ 259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15248»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه اخرجه الدارقطني: 2/ 259
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4376
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي حَدِيثٍ لَهَا قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، فَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ فَطَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ اپنی طویل حدیث میں بیان کرتی ہیں کہ جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرکے حلال ہوگئے، لیکن انھوں نے اس کے بعد منیٰ سے واپس آکر حج کے لئے الگ سے طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ کوجمع کیایعنی حج قران کا احرام باندھا ہوا تھا، انہوں نے ایک ہی طواف کیاتھا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4376]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1556، 1638، 4395، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25955»
وضاحت: فوائد: … حج قران کرنے والا طواف قدوم اور صفا مروہ کی سعی کرے گا، پھر (۱۰) ذوالحجہ کو طوافِ افاضہ کرے گا اور یہی طواف حج و عمرہ دونوں کی طرف سے کفایت کرے گا، جبکہ طواف قدوم کے ساتھ کی گئی صفا مروہ کی سعی ہی دونوں کے لیے کافی ہو گی۔ زیر مطالعہ حدیث اور دیگر صحیح صریح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قارن کے لیے صرف سعی نہیں بلکہ بیت اللہ کا طواف بھی ایک ہی کافی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں فتح الباری: ۳/ ۴۹۴۔ التعلیقات السلفیہ: ۲/ ۳۱،۳۲۔ جائزۃ الاحوذی: ۲/ ۲۵۷۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1556
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں