الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ الْأَمْرِ بِالسَّكِينَةِ عِنْدَ الدَّفْعِ مِنْ مُزْدَلِفَةَ إِلَى مِنَى وَالْإِيضَاعِ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4484
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ وَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَقَالَ: ( (هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ) ) ثُمَّ دَفَعَ وَجَعَلَ يَسِيرُ الْعَنَقَ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا وَهُوَ يَلْتَفِتُ وَيَقُولُ: ( (السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ) ) حَتَّى جَاءَ مُحَسِّرًا فَقَرَعَ رَاحِلَتَهُ فَخَبَّتْ حَتَّى خَرَجَ ثُمَّ عَادَ لِسَيْرِهِ الْأَوَّلِ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ … الْحَدِيثَ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں تشریف لائے اور مغرب اور عشاء کی دو نمازیں جمع کر کے ادا کیں اور وہیں وقوف کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قزح پر وقوف کیا اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا اور فرمایا: یہ میری ٹھہرنے کی جگہ ہے، لیکن مزدلفہ سارے کا سارا ہی جائے وقوف ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے چل دیئے اور کچھ تیزی سے چلنا شروع کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ لوگ دائیں بائیں نکلے جارہے تھے، تو ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: آرام سے، لوگو! آرام سے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ محسر تک آپہنچے پھر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری کو ہانکا، پس وہ دوڑ پڑی،یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی سے باہر آگئے اور اپنی پہلی رفتار کے ساتھ چلنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی کی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4484]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1922، 1935، والترمذي: 885، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 564 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 564»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 1922
حدیث نمبر: 4485
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَغَدَاةَ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعْنَا (وَفِي لَفْظٍ حِينَ دَفَعُوا) : ( (عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ) ) وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنَى حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا (وَفِي لَفْظٍ: حَتَّى إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنَى) قَالَ: ( (عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ) ) وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح کو جب ہم روانہ ہوئے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سکون سے چلو۔ اور آپ اپنی اونٹنی کو بھی تیزچلنے سے روک رہے تھے، یہاں تک کہ جب آپ وادیٔ محسر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (چنے یا لوبیاوغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کرو، جن سے جمرے کو مارا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کر رہے تھے، جیسے انسان اس حجم کی کنکری پھینکتا ہے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4485]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1282، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1794 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1794»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1282
حدیث نمبر: 4486
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سکینت سے جارہے تھے اور لوگوں کو بھی یہی حکم دے رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ جمرے کو مارنے کے لیے(چنے یا لوبیا وغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وادیٔ محسر کو عبور کرتے وقت سواری کو تیز دوڑایا تھا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4486]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 1944، وابن ماجه: 3023، والترمذي: 886، والنسائي: 5/ 258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15277»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابوداود: 1944
حدیث نمبر: 4487
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (ارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ وَعَلَيْكُمْ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وادیٔ محسر سے دور رہو (اور وہاں سے کنکریاں مت اٹھاؤ) اور تم (چنے یا لوبیا وغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کرو۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4487]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن خزيمة: 2816، والحاكم: 1/ 462، والبيھقي: 5/ 115، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1896 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1896»
وضاحت: فوائد: … تمام احکام پہلے گزر چکے ہیں اور واضح بھی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابن خزيمة: 2816