الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ مَا يَحِلُّ لِلْحَاجِّ وَمَا يَفْعَلُهُ بَعْدَ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
حدیث نمبر: 4518
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ثُمَّ ذَبَحَ ثُمَّ حَلَقَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی کی،پھر جانور ذبح کیے اور پھر سر منڈوایا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4518]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 2568،و الطبراني: 12088، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2253 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2253»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 2568
حدیث نمبر: 4519
عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ) ) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: وَالطِّيبُ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ أَفَطِيبٌ ذَакَ أَمْ لَا؟
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم جمرۂ (عقبہ) کی رمی کر لو تو عورتوں کے علاوہ تمہارے لیے ہر چیز حلال ہو جائے گی۔ ایک بندے نے کہا: اور خوشبو؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد) کستوری سے اپنے سر کو لت پت کر رکھا تھا، تو یہ خوشبو تھی یا نہیں؟ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4519]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 5/ 277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2090 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2090»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه النسائي: 5/ 277
حدیث نمبر: 4520
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي بِذَرِيرَةٍ لِحَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ حَيْثُ أَحْرَمَ وَحَيْثُ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ذریرہ خوشبو اس وقت لگائی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرۂ عقبہ کی رمی کر کے حلال ہوئے اور ابھی تک بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام باندھنے کا ارادہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4520]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5930، ومسلم: 1189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26606»
وضاحت: فوائد: … ذریرہ ایک خوشبو ہے، جو کئی خوشبوؤں کا مرکب ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5930
حدیث نمبر: 4521
وَعَنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَمَيْتُمْ وَحَلَقْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ الطِّيبُ وَالثِّيَابُ وَكُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم رمی کر لو ہو اور سر منڈوا لو تو تمہارے لیے خوشبو اور دوسرے کپڑے حلال ہو جاتے ہیں، بلکہ ہر چیز حلال ہو جاتی ہے، ما سوائے بیویوں کے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4521]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1305، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12092 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25616»
وضاحت: فوائد: … دس ذوالحجہ کو جمرہ ٔ عقبہ کی رمی کے بعد حجاج کرام احرام کی تمام پابندیوں سے آزاد ہو جاتے ہیں، البتہ بیویوں سے ہم بستری نہ کرنے کی پابندی برقرار رہتی ہے، طواف افاضہ کے بعد یہ پابندی بھی اٹھ جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1305