الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى وَعَدَمِ جَوَازِ صِيَامِهَا أَيَّامَهَا
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4565
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنَى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں دو دو رکعتیں یعنی قصر نمازیں ادا کیں، کاش ان چار رکعتوں کے بدلے میں میری دو رکعتیں قبول کر لی جائیں۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4565]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1084، ومسلم: 695، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3953»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1084
حدیث نمبر: 4566
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنَى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منی میں دو رکعتیں، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دو رکعتیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دو رکعتیں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے شروع میں دو رکعتیں پڑھی تھیں۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4566]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 3/ 120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12491»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه النسائي: 3/ 120
حدیث نمبر: 4567
عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَأَوْسَ بْنَ الْحَدَثَانِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَنَادَيَا: أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اور سیدنا اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ کو ایام تشریق کے دوران یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ صرف مومن جنت میں جائے گا اور ایام تشریق کھانے پینے کے دن ہیں۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4567]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15886»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۳۸۶۰)کے باب میں یہ تفصیل گزر چکی ہے کہ ایام تشریق میں روزے رکھنے سے منع کیا گیا ہے، البتہ حج تمتع کرنے والا شخص، جو قربانی نہ کر سکتا ہو، ان دنوں میں روزہ رکھ سکتا ہے۔ یہ حقیقت تو بلا شک و شبہ ہے کہ عہد ِ نبوی اور خلفائے راشدین کے دور میں مِنی میں قصر نماز کی وجہ سفر تھی اور یہ قصر حج کی مناسبت کی وجہ سے نہ تھی۔ سوال یہ ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مِنٰی میں مکمل نماز کیوں پڑھائی اور قصر نماز کے لیے جس حد بندی کا تعین کیا جاتا ہے، کیا مِنٰی اس کا مصداق بنتا ہے یا نہیں؟ ان دونوں مسئلوں پر حدیث نمبر (۲۳۵۷) کے باب اور اس میں مذکورہ احادیث کے فوائد میں سیر حاصل بحث کی جا چکی ہے، قارئین خود مطالعہ کر لیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1142