🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

48. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِشْعَارِ الْبُدْنِ وَتَقْلِيدِ الْهَدْيِ كُلِّهِ
قربانی کے اونٹوں کو اشعار کرنا اور ہدی کے تمام جانوروں کو قلادے ڈالنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4603
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَتِهِ أَوْ أُتِيَ بِبَدَنَتِهِ فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنَ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا وَقَلَّدَهَا بِنَعْلَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالحلیفہ مقام پر نمازِ ظہر ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹ لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی کوہان کے دائیں پہلو پر علامت لگائی اور پھر اس سے خون صاف کر دیا اور دو دو جوتوں کے قلادے ڈالے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمیت بیداء مقام پر کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4603]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1243، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2296»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: اشعار یہ ہے کہ اونٹنی کی کوہان کی دائیں جانب پر کسی برچھی یا چھری وغیرہ سے زخم لگایا جائے اور پھر خون کو صاف کر لیا جائے، یہ جانور کے ہدی ہونے کی علامت ہو گی، اگر ایسا جانور گم ہو جائے تو دوسرے لوگ خود ہی اس کو حاجیوں تک پہنچا دیتے ہیں، چور وغیرہ بھی اس کو چرانے سے باز رہتے ہیں اور اگر وہ دوسرے اونٹوں میں مل جائے تو اس کو پہنچان لیا جاتا ہے، یہ کام قلادے سے بھی لیا جا سکتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیتے بھی تھے، بہرحال اشعار ایسی علامت ہے جو زائل نہیں ہوتی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1243
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4604
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى فِي بُدْنِهِ جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ بُرَتُهُ فِضَّةٌ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قربانی کے اونٹوں میں ابو جہل کا اونٹ بھی تھا، اس کی نکیل کا کڑا چاندی کا تھا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4604]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن ماجه: 3076، 3100، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2079»
وضاحت: فوائد: … یہ عمرۂ حدیبیہ کا واقعہ ہے، یہ اونٹ غزوۂ بدر میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت میں سے تھا۔

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4605
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً غَنَمًا إِلَى الْبَيْتِ فَقَلَّدَهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ بکریوں کو بطورِ ہدی بیت اللہ کی طرف بھیجا تھا اور ان کو قلادے بھی ڈالے تھے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4605]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1701، 1702، ومسلم: 1321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24656»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع سے پہلے بھی ہدی کے جانور بھیجتے رہتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود مدینہ منورہ میں ہی رہتے، ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکریاں بھیجیں تھیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1701
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4606
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف ہدی کے طور پر بکریاں بھیجی تھیں۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4606]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14891 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14952»
وضاحت: فوائد: … یہ بھی قربانی کی ایک صورت ہے کہ خود انسان اپنے گھر میں ٹھہرے اور قربانی کے جانور کسی شخص یا ادارے کے ہاتھ مکہ مکرمہ بھیج دے کہ وہاں حرم میں ذبح ہوں، اور یہ افضل قربانی ہے۔ ایسے آدمی پر احرام کی کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی، جیسا کہ اگلے باب کی روایات سے معلوم ہو گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں