الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. بَابُ نَحْرِ الْإِبِلِ قَائِمَةً مُقَيَّدَةً وَأَكْلِ الْمُهْدَى مِنْ هَدْيِهِ وَالتَّصْدِيقِ بِجِلْدِهِ وَجِلَالِهِ
اونٹ کو کھڑا کر کے اور باندھ کر نحر کرنا، ہدی لے جانے والے کا اپنی ہدی کا گوشت کھانا اور اس کے چمڑے اور پالان وغیرہ کو صدقہ کر دینا اور اس میں کوئی چیز قصاب کو اجرت میں نہ دینا
حدیث نمبر: 4638
عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِمِنًى فَمَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَةً وَهِيَ بَارِكَةٌ فَقَالَ ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ زیاد بن جبیر کہتے ہیں: میں مِنٰی میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، جب وہ ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جو ہدی کو بٹھا کر نحر کر رہا تھا تو انھوں نے کہا: اس کو اٹھا اور (اس وقت ذبح کر) جب یہ کھڑی اور باندھی ہوئی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی پیروی کر۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4638]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1713،و مسلم: 1320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4459»
وضاحت: فوائد: … اونٹ کو کھڑا کر کے نحر کیا جاتا ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ کھڑے جانور کو گلے میں چھرا وغیرہ گھونپ دیا جاتا ہے، جب کافی حد تک بہہ جاتا ہے تو جانور خودبخود گر پڑتا ہے، پھر اسے ذبح کر دیا جاتا ہے۔ اونٹ میں مسنون عمل نحر ہے، تاہم بوقت ِ ضرورت ذبح کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1713
حدیث نمبر: 4639
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي صِفَةِ حَجِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكَانَتْ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي أَتَى بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِائَةً فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثَلَاثَةً وَسِتِّينَ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہدی کے جانوروں کی کل تعداد سو (۱۰۰) تھی، بعض جانور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے لائے تھے اور کچھ جانور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود لے کر گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے تریسٹھ جانور ذبح کیے، پھر باقی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیئے اور انھوں نے ان کو ذبح کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی اپنے ہدیوں میں شریک کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہر اونٹ سے ایک ٹکڑا لیا جائے اور ان کو ہنڈیاں میں پکایا جائے، پھر ان دونوں نے ان کا گوشت کھایا اور ان کا شوربا پیا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4639]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14449»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام اونٹوں کا کچھ نہ کچھ حصہ کھانے کا اہتمام کیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1218
حدیث نمبر: 4640
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا وَحَاضَتْ بِسَرِفَ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ قَالَ لَهَا اقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ قَالَتْ فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ قُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ بِالْبَقَرِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ حج کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچنے سے پہلے سرف مقام پر حائضہ ہو گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تو باقی حاجیوں کی طرح مناسک ِ حج ادا کرتی رہ، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کر۔ وہ کہتی ہیں: جب میں مِنٰی میں تھی تو میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے قربان کی ہے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4640]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5548، 5559، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24610»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5548
حدیث نمبر: 4641
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِهَدْيِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِلُحُومِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ اپنی ہدیاں بھیجیں اور ان کو یہ حکم دیا کہ وہ ان کے گوشت، چمڑوں اور پالانوں وغیرہ کو صدقہ کر دیں۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4641]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1717، ومسلم: 1317، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 894 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 894»
وضاحت: فوائد: … ہدی اور قربانی کے جانوروں کی کوئی چیز نہ بیچی جا سکتی ہے اور نہ کسی احسان کے عوض میں دی جا سکتی ہے، مالک اپنا حصہ کھا لینے یا ذخیرہ کر لینے کے بعد تمام گوشت اور چمڑے، پالانیں اور رسیاں وغیرہ صدقہ کر دے گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1717
حدیث نمبر: 4642
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ نَحَرَ بِيَدِهِ ثَلَاثِينَ وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا وَقَالَ اقْسِمْ لُحُومَهَا بَيْنَ النَّاسِ وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا وَلَا تُعْطِيَنَّ جَازِرًا مِنْهَا شَيْئًا
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیس جانوروں کو خود نحر کیا اور پھر مجھے حکم دیا اور میں نے باقی اونٹ نحر کیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ان کے گوشت، چمڑوں اور جُلّوں وغیرہ کو لوگوں میں تقسیم کر دے اور ان میں سے کوئی چیز قصاب کو ہر گز نہ دے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4642]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1374»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۴۶۳۹)کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے تریسٹھ اونٹ نحر کیے اور باقی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کیے، یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، لہٰذا اسی کو ترجیح دی جائے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1374
حدیث نمبر: 4643
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلُحُومِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا قَالَ نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہدی کے جانوروں کی نگرانی کروں اور ان کے گوشت، چمڑوں اور پالانوں کو صدقہ کر دوں اور ان میں سے کوئی چیز قصاب کو نہ دوں۔ ہم لوگ اپنے پاس سے قصاب کی اجرت دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4643]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1325»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1325
حدیث نمبر: 4644
عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ وَفِي لَفْظٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ لَا تَأْكُلُوا الْأَضَاحِيَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِتَسَعَكُمْ وَإِنِّي أُحِلُّهُ لَكُمْ فَكُلُوا مِنْهُ مَا شِئْتُمْ وَلَا تَبِيعُوا لُحُومَ الْهَدْيِ وَالْأَضَاحِيِّ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَاسْتَمْتِعُوا بِجُلُودِهَا وَلَا تَبِيعُوهَا وَإِنْ أُطْعِمْتُمْ مِنْ لَحْمِهَا فَكُلُوا إِنْ شِئْتُمْ وَقَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَالْآنَ فَكُلُوا وَاتَّجِرُوا وَادَّخِرُوا
۔ سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: میں نے تم لوگوں کو یہ حکم دیا تھا کہ تم تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت نہیں کھا سکتے، تاکہ وہ گوشت تم سب کو کفایت کرے، اب میں تمہارے لیے اس چیز کو حلال کرتا ہوں، اب جب تک چاہو تو اس گوشت کو کھا سکتے ہو، البتہ ہدی اور قربانی کا گوشت بیچنا نہیں ہے، خود کھاؤ، صدقہ کرو اور ان کے چمڑوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہو، ان کو بھی بیچ نہیں سکتے اور اگر تم کو ایسا گوشت کھلایا جائے تو کھا لیا کرو، اگر چاہو تو۔ جو روایت سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اب کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4644]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن جريج مدلس وقد عنعن،وزبيد بن الحارث لم يلق احدا من الصحابة، فھو منقطع، أخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 7، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16211 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16312»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4645
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّا كُنَّا نَتَزَوَّدُ مِنْ وَشِيقِ الْحَجِّ حَتَّى يَكَادَ يَحُولُ عَلَيْهِ الْحَوْلُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم لوگ حج کی ہدی کے جانوروں کے گوشت کے پارچے بنا کر یا گوشت کو کچھ ابال کر سفروں میں زادِ راہ کے طور پر لے جاتے تھے اور قریب ہوتا تھا کہ ان پر پورا سال گزر جائے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4645]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11829»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 4646
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْهَدْيِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم عہد ِ نبوی میں ہدیوں کا گوشت مدینہ منورہ تک زادِ راہ میں رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4646]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2980، 5424، ومسلم: 1972، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14319 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14370»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2980
حدیث نمبر: 4647
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقَدِيدَ بِالْمَدِينَةِ مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى
۔ (دوسری سند) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (مکہ مکرمہ میں کی گئی قربانیوں) کے پارچے مدینہ منورہ میں کھاتے تھے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4647]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14563»
وضاحت: فوائد: … پہلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانیوں کا گوشت تین دنوں سے زائد ذخیرہ کرنے سے منع کر دیا تھا، لیکن پھر مستقل طور پر اس کی اجازت دے دی تھی، بہرحال ایسے جانور کے گوشت کی کچھ مقدار مستحق لوگوں کو دی جائے اور باقی ذخیرہ کی جا سکتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14563