الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
71. بَابُ التَّأْذِينِ فِي أُذُنَيِ الْمَوْلُودِ حِينَ يُولَدُ وَتَحْنِيكِهِ بَعْدَ ذَلِكَ
ولادت کے بعد بچے کے دونوں کانوں میں اذان دینا اور پھر اس کے بعد گڑتی دینا
حدیث نمبر: 4739
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنَيِ الْحَسَنِ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دونوں کانوں میں اذان دی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4739]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، أخرجه أبوداود: 5105، الترمذي: 1514، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24371»
وضاحت: فوائد: … نو مولود کے کان میں اذان دینا، اس اعتبار سے یہ ایک اہم مسئلہ ہے کہ قدیم و جدید زمانے میںجمہور امت نے اس پر عمل کیا ہے اور اہل علم نے اپنی کتب میں اس سے متعلقہ عنوان قائم کیے ہیں اور اس کو مستحبّ سمجھا ہے، جبکہ اس کے حق میں کوئی مضبوط حدیث نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
حدیث نمبر: 4740
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ فَقَالَ لِي أَمَعَكَ تَمْرٌ قُلْتُ نَعَمْ فَتَنَاوَلَ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ ثُمَّ حَنَّكَهُ فَفَغَرَ الصَّبِيُّ فَاهُ فَأَوْجَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَتِ الْأَنْصَارُ إِلَّا حُبَّ التَّمْرِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا عبد اللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں ان کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوغہ پہن رکھا تھا اور اپنے ایک اونٹ کو گندھک مل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تیرے پاس کھجور ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھجوریں لی، ان کو اپنے منہ مبارک میں ڈال کر چبایا، پھربچے کو اس طرح گڑتی دی کہ بچے نے منہ کھولااور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے منہ سے وہ مواد نکال کر بچے کے منہ میں ڈال دیا اور بچہ اس کو کھا کر اس کا ذائقہ لینے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار نے انکار کر دیا ہے، ما سوائے کھجور کی محبت کے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کا نام عبد اللہ رکھا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4740]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2144، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12826»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2144
حدیث نمبر: 4741
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ وَقَالَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں زبیر کے بیٹے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھجور کی گڑتی دی اور فرمایا: یہ عبد اللہ ہے اور تم ام عبد اللہ ہو۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4741]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه أبوداود: 4970، وقولھا: فحنكه بتمرة أخرجه البخاري: 3910، ومسلم: 2148، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25126»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 4742
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرا ایک بچہ پیدا ہوا، جب میں اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور اس کو کھجور کی گڑتی دی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4742]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5467، 6198، ومسلم: 2145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19570 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19799»
وضاحت: فوائد: … صحابۂ کرام اس چیز کا اہتمام کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے بچوں کو گڑتی دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود اور لعاب کی برکت تو بے مثال ہے، لیکن ہمیں بھی اس مقصد کے لیے نیک شخصیات کا انتخاب کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5467