🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

75. فَصْلٌ مِنْهُ فِي التَّرْخِيصِ فِي ذَلِكَ
اس معاملے میں رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4758
عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِي بَعْدَكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ قَالَ نَعَمْ فَكَانَتْ رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ
۔ ابن حنفیہ رحمتہ اللہ علیہ سے مروی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر آپ کے بعد میرا بیٹا ہو تو میں اس کا نام بھی آپ والا رکھوں اور کنیت بھی آپ والی رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ٹھیک ہے۔ راوی کہتا ہے: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو رخصت تھی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4758]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 4967، والترمذي: 2843، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 730»
وضاحت: فوائد: … اس رخصت کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کرنا، یہ راوی کا ذاتی فہم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیے گئے سوال اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب کا تقاضا یہ نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4759
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي أَوْ مَا حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس نے میرے نام کو حلال اور کنیت کو حرام قرار دیا ہے، یا میری کنیت کو حرام اور نام کو حلال قرار دیا ہے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4759]
تخریج الحدیث: «حديث منكر، أخرجه أبوداود: 4968، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25554»

الحكم على الحديث:
حديث منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں