الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
75. فَصْلٌ مِنْهُ فِي التَّرْخِيصِ فِي ذَلِكَ
اس معاملے میں رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 4758
عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِي بَعْدَكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ قَالَ نَعَمْ فَكَانَتْ رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ
۔ ابن حنفیہ رحمتہ اللہ علیہ سے مروی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر آپ کے بعد میرا بیٹا ہو تو میں اس کا نام بھی آپ والا رکھوں اور کنیت بھی آپ والی رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ٹھیک ہے۔ راوی کہتا ہے: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو رخصت تھی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4758]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 4967، والترمذي: 2843، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 730»
وضاحت: فوائد: … اس رخصت کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کرنا، یہ راوی کا ذاتی فہم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیے گئے سوال اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب کا تقاضا یہ نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 4759
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي أَوْ مَا حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس نے میرے نام کو حلال اور کنیت کو حرام قرار دیا ہے، یا میری کنیت کو حرام اور نام کو حلال قرار دیا ہے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4759]
تخریج الحدیث: «حديث منكر، أخرجه أبوداود: 4968، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25554»
الحكم على الحديث:
حديث منكر