الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ الْكَفُ وَقْتَ الْإِغَارَةِ عَمَّنْ عِنْدَهُ شِعَارُ الإسلام
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
حدیث نمبر: 4978
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُغِيرُ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَيَسْتَمِعُ فَإِذَا سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ قَالَ فَتَسَمَّعَ ذَاتَ يَوْمٍ قَالَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ عَلَى الْفِطْرَةِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ طلوع فجر کے بعد شب خون مارتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کان لگاتے، اگر اذان کی آواز آ جاتی تو رک جاتے، وگرنہ حملہ کر دیتے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کان لگائے ہوئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤذن کو یہ کہتے ہوئے سنا: اَللَّہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فطرت پر ہیں۔ پھر جب اس نے کہا: أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو آگ سے نکل گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4978]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12351 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12376»
وضاحت: فوائد: … اذان، امن وسلامتی اور دینِ اسلام کی علامت ہے، اس کی وجہ سے جان و مال کو تحفظ ملتاہے، جب کسی علاقے یا فرد کے بارے میں سمجھ نہ آ رہی ہو کہ تو اذان جیسی علامتوں کاانتظار کیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4979
عَنْ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ السَّرِيَّةَ يَقُولُ إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُنَادِيًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا قَالَ ابْنُ عِصَامٍ عَنْ أَبِيهِ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ
۔ سیدنا عصام مزنی رضی اللہ عنہ، جو کہ اصحاب ِ رسول میں سے تھے، سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی سریّہ روانہ کرتے تو فرماتے: جب تم مسجد دیکھ لو یا اذان سن لو تو کسی کو قتل نہ کرنا۔ ابن عصام راوی کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عصام رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک سریّہ میں بھیجا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4979]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لجھالة ابن عصام المزني، أخرجه ابوداود: 2635، والترمذي: 1549، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15805»
وضاحت: فوائد: … بہرحال مسجد اور مؤذن اسلام کی بہت بڑی علامتیں ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف