الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ الرَّمْي بِالسَّهَامِ وَفَضْلِهِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ وَاللَّعْبِ بِالْحِرَابِ وَنَحْوِ ذَلِكَ
تیز اندازی، اس کی فضیلت، اس پر ابھارنے اور لڑائی کے آلات سے کھیلنے وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 5171
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ وَهُمْ يَتَنَاضَلُونَ فِي السُّوقِ فَقَالَ ارْمُوا يَا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَكُوا أَيْدِيَهُمْ فَقَالَ ارْمُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو اسلم کے لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بازار میں تیر اندازی میں مقابلہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا، کرو تیر اندازی اور میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فریق کا نام لیا تو وہ رک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: پھینکو تیر (کیوں رک گئے ہو)۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے پھینکیں، جبکہ آپ تو بنو فلاں کے ساتھ ہو گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کرو تیز اندازی، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ/حدیث: 5171]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2899، 3507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16643»
وضاحت: فوائد: … حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہ السلام مراد ہیں، ان کی اولاد عرب تھی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2899
حدیث نمبر: 5172
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَفَرٍ يَرْمُونَ قَالَ رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیر اندازی کرنے والے ایک گروہ کے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ/حدیث: 5172]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ماجه: 2815، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3444»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 5173
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ أَرْضُونَ وَيَكْفِيكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا يَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِسَهْمِهِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب کئی علاقے فتح ہوں گے اور اللہ تعالیٰ تم سے کفایت کرے گا، لیکن کوئی آدمی اتنا عاجز نہ آ جائے کہ وہ تیر اندازی سے غفلت برتنا شروع کر دے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ/حدیث: 5173]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1918، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17433 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17569»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1918
حدیث نمبر: 5174
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر یہ آیت پڑھی: اپنی استطاعت کے مطابق دشمنوں کے لیے اپنی قوت تیار رکھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! بیشک قوت تیر اندازی ہے، خبردار! بیشک قوت تیر اندازی ہے، خبردار! بیشک قوت تیر اندازی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ/حدیث: 5174]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1918، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17432 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17568»
وضاحت: فوائد: … عصر حاضر میں جدید جنگی صلاحیتوں کی مہارت حاصل کرنا، جدید اسلحہ تیار کرنا اور ہر میدان میں لڑنے والی فوجیں تیار کر کے رکھنا اس حدیث ِ مبارکہ کا اولین تقاضا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1918
حدیث نمبر: 5175
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ الثَّلَاثَةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ وَالْمُمِدَّ بِهِ وَالرَّامِيَ بِهِ وَقَالَ ارْمُوا وَارْكَبُوا وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَةَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ وَمَنْ نَسِيَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عُلِّمَهُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ فَتُوُفِّيَ عُقْبَةُ وَلَهُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ أَوْ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ قَوْسًا مَعَ كُلِّ قَوْسٍ قَرْنٌ وَنَبْلٌ وَأَوْصَى بِهِنَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرے گا: (۱) اس کو بنانے والا، جو خیر کے ارادے سے اس کو بناتا ہے، (۲) اس کوآگے مجاہد کو پکڑانے والا اور (۳) اس کو پھینکنے والا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی بھی کرو اور گھوڑے پر سوار ہو کر اس کی مشق بھی کرو، لیکن مجھے سواری کی بہ نسبت تیر اندازی زیادہ پسند ہے اور جس جس چیز کے ساتھ بندہ کھیلتا ہے، وہ سب باطل اور بے مقصد ہیں، ما سوائے ان امور کے: آدمی کا اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا، اپنے گھوڑے کی تربیت کرنا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ امور حق ہیں اور جس نے تیراندازی کا فن حاصل کرنے کے بعد اس کو بھلا دیا، اس نے اس چیز کا کفر کیا، جس کی اس کو تعلیم دی گئی تھی۔ ایک روایت میں ہے: جب سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان کے پاس چونسٹھ پینسٹھ یا چوہتر پچھتّر کمانیں تھیں، ہر کمان کے ساتھ تھیلا اور عربی تیرے تھے، اور انھوں نے ان کے بارے میں وصیت کی تھی کہ یہ اللہ کے راستہ میں وقف ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ/حدیث: 5175]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بمجموع طرقه وشواھده، أخرجه أبوداود: 2513، والترمذي باثر الحديث: 1637، وابن ماجه: 2814، والنسائي: 6/28، وأخرج القطعة الاخيرة بنحوه مسلم: 1919، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17433»
وضاحت: فوائد: … حدیث میں مذکور اعمال کی اباحت اور فضیلت ثابت ہو رہی ہے، لہٰذا اگر کسی تفریح کا پروگرام ہو تو ان ہی تفریحات میں سے کسی کو ترجیح دی جائے تاکہ جسمانی قوت اور تفریح کے ساتھ ساتھ عند اللہ اجرو ثواب کا بھی مستحق ٹھہرے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن بمجموع طرقه وشواھده
حدیث نمبر: 5176
عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ كَانَ عُقْبَةُ يَأْتِينِي فَيَقُولُ اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ تَثَاقَلْتُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِي آخِرِهِ وَمَنْ عَلَّمَهُ اللَّهُ الرَّمْيَ فَتَرَكَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَنِعْمَةٌ كَفَّرَهَا
۔ سیدنا خالد بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آتے اور کہتے: باہر آؤ، تیر اندازی کریں، ایک دن میں نے باہر آنے میں تاخیر کی یا سستی کا مظاہرہ کیا، تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرے گا، پھر انھوں نے سابق حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس کے آخری الفاظ اس طرح ہیں: اور اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو تیراندازی کی تعلیم دی، لیکن اس نے بے رغبتی کی وجہ سے اس کو ترک کر دیاتو دراصل اس نے ایک نعمت کا کفر کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ/حدیث: 5176]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17454»
وضاحت: فوائد: … حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے، دراصل یہ محض کوئی کھیل نہیں تھا، بلکہ اس میں دین کی منفعت مضمر تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس حکمت کا علم نہ ہو سکا، اس لیے انھوں نے اُن کو منع کرنا چاہا، لیکن جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت فرما دی۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17454
حدیث نمبر: 5177
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ دَخَلَ عُمَرُ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصْبَاءِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعْهُمْ يَا عُمَرُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حبشی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں (مسجد نبوی میں) لڑائی کے آلات کے ساتھ کھیل رہے تھے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو وہ ان کو مارنے کے لیے کنکریاں اٹھانے کے جھکے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! ان کو کھیلنے دو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ/حدیث: 5177]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2901، ومسلم: 893، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8066»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2901