🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابُ الْأمْرِ بِأَبْرَارِ الْمُقْسَمِ وَالرُّحْصَةِ فِي تَرْكِهِ لِلْعُدْرِ وَمَنْ كَذَّبَ بَصَرَهُ وَصَدَّقَ الْحَالِفَ
قسم اٹھانے والی کی قسم کو پورا کرنے اور عذر کی بنا پر اس کو پورا نہ کرنے کی رخصت کا اور¤نیز اس شخص کا بیان جو اپنی نظر کو جھٹلا دے اور قسم اٹھانے والے کی تصدیق کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5332
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَفْوَانَ وَكَانَ لَهُ بَلَاءٌ فِي الْإِسْلَامِ حَسَنٌ وَكَانَ صَدِيقًا لِلْعَبَّاسِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَ بِأَبِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَأَبَى وَقَالَ إِنَّهَا لَا هِجْرَةَ فَانْطَلَقَ إِلَى الْعَبَّاسِ وَهُوَ فِي السِّقَايَةِ فَقَالَ يَا أَبَا الْفَضْلِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَأَبَى قَالَ فَقَامَ الْعَبَّاسُ مَعَهُ وَمَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْتَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ فُلَانٍ وَأَتَاكَ بِأَبِيهِ لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَأَبَيْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا لَا هِجْرَةَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُبَايِعَنَّهُ قَالَ فَبَسَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ قَالَ فَقَالَ هَاتِ أَبَرَّتُ قَسَمَ عَمِّي وَلَا هِجْرَةَ
۔ مجاہد کہتے ہیں: عبد الرحمن بن صفوان نامی ایک مہاجر صحابی تھا، اس نے اچھے انداز میں اسلام کی آزمائش کو پورا کیا تھا، یہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا دوست تھا، یہ صحابی فتح مکہ والے دن اپنے باپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہجرت پر اس کی بیعت لو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا اور فرمایا: اب کوئی ہجرت نہیں ہے۔ وہ آدمی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا، جبکہ وہ زمزم کا پانی پلا رہے تھے، اور ان سے کہا: اے ابو الفضل! میں اپنے باپ کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تاکہ ہجرت پر ان سے بیعت لیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے، ان پر قیمص کی جگہ پر اوڑھی جانے والی چادر بھی نہیں تھی، بہرحال وہ آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ میرا فلاں آدمی کے ساتھ کتنا تعلق ہے، وہ اپنے باپ کو لے کر آیا تاکہ آپ ہجرت پر بیعت لیں، لیکن آپ نے انکار کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بات یہ ہے کہ اب کوئی ہجرت نہیں ہے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ پر قسم اٹھاتا ہوں کہ آپ ضرور ضرور اس سے بیعت لیں گے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا: آجا، بیعت کر لے، میں اپنے چچا کی قسم پوری کر رہا ہوں، ہجرت اب کوئی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5332]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد القرشي الھاشمي، أخرجه ابن ماجه: 2116، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15636»
وضاحت: فوائد: … بہرحال فتح مکہ کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا، باقی رہا مسئلہ درالحرب سے دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنے کا تو اس کا حکم وجوب کے ساتھ برقرار ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد القرشي الھاشمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5333
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَهْدَتْ إِلَيْهَا امْرَأَةٌ تَمْرًا فِي طَبَقٍ فَأَكَلَتْ بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ فَقَالَتْ أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ إِلَّا أَكَلْتِ بَقِيَّتَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبِرِّيهَا فَإِنَّ الْإِثْمَ عَلَى الْمُحَنِّثِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، ایک خاتون نے ان کی طرف ایک تھال میں کچھ کھجوریں بھیجیں، اس (عائشہ) نے کچھ کھجوریں کھالی اور کچھ بچ گئیں، لیکن اس خاتون نے مجھے کہا: میں تجھ پر قسم اٹھاتی ہوں کہ تو باقی کھجوریں بھی کھائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم کو پورا کر دے، کیونکہ گناہ اس پر ہوتا ہے، جو قسم توڑنے کا سبب بنتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5333]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو الزاھرية لم يسمع من عائشة، أخرجه ابوداود في المراسيل: 388، والبيھقي: 10/41، والدارقطني: 4/ 142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25346»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5334
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ قَالَ فَذَكَرَ مَا أَمَرَهُمْ مِنْ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا اور سات سے منع کیا، پھر انھوں نے ان امور کا ذکر کیا، جن کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا، ان میں سے بعض امور تھے: مریض کی تیمارداری کرنا، جنازوں کے پیچھے چلنا، چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا، سلام کا جواب دینا اور قسم اٹھانے والے کی قسم پورا کرنا، …۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5334]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1239، 2445، 5650، ومسلم: 2066، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18698»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1239
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5335
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَدِيثِ رُؤْيَا أَعْبَرَهَا أَيْ فَسَّرَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ تَعْبِيرِهَا أَصَبْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَصَبْتَ وَأَخْطَأْتَ قَالَ أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُخْبِرَنِّي فَقَالَ لَا تُقْسِمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، یہ ایک خواب سے متعلقہ حدیث تھی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کی تعبیربیان کی اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں نے درست تعبیر بیان کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے بعض پہلو درست بیان کیے ہیں اور بعض میں غلطی کی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں قسم اٹھاتا ہوں کہ آپ ضرور ضرور مجھے میری غلطی پر آگاہ کریں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم نہ اٹھاؤ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5335]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7000، 7046، ومسلم: 2269، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2113»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی قسم پوری نہیں کی، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کی قسم کو پورا کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ جمع و تطبیق کی یہ صورت ہے کہ کسی مانع اور مصلحت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قسم کو پورا نہیں کیا۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 7000
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5336
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْسَمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْسِمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قسم اٹھائی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم نہ اٹھاؤ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5336]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1894»

الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1894
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5337
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَجُلًا يَسْرِقُ فَقَالَ لَهُ عِيسَى سَرَقْتَ قَالَ كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ قَالَ عِيسَى آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ عَيْنِي
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے ہوئے دیکھا اور پھر اس سے کہا: تو نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے! میں ہر گز چوری نہیں کی۔ یہ سن کر عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہوں اور اپنی آنکھ کو جھٹلاتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5337]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3444، ومسلم: 2368، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8139»
وضاحت: فوائد: … جب اس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی ذات کا وسیلہ دیتے ہوئے انکار کیا تو عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے نام کی تعظیم کرتے ہوئے اس کی تصدیق کر دی۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3444
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں