الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ النَّدْرِ فِي طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَوُجُوبِ الْوَفَاءِ بِهِ سَوَاءٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ
اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان،¤وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
حدیث نمبر: 5354
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ فَلَا يَعْصِهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کی نذر مانی تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانی تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5354]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6696، 6700، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24576»
وضاحت: فوائد: … نافرمانی ہر حال میں بہت بری ہے اور نذر مان کر نافرمانی کرنا مزید قبیح ہے، نذر ماننے سے کوئی برائی نیکی نہیں بن سکتی، لہذا نذر کے بہانے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنا جائز نہ ہو گا، بلکہ مزید گناہ ہو گا، اس لیے نافرمانی کی نذر پوری نہ کی جائے، بلکہ اس کا کفارہ دے دیا جائے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6696
حدیث نمبر: 5355
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَاقَتِي وَكَيْتَ وَكَيْتَ قَالَ أَمَّا نَاقَتُكَ فَانْحَرْهَا وَأَمَّا كَيْتَ وَكَيْتَ فَمِنَ الشَّيْطَانِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے اپنی اونٹنی کو نحر کرنے کی اور ایسی ایسی چیز وں کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رہا مسئلہ تیری اونٹنی کا تو اس کو تو نحر کر دے اور رہا مسئلہ ایسی ایسی چیزوں کا تو وہ شیطان کی طرف سے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5355]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، وعلي بن حسين لم يدرك جده علي بن ابي طالب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 688»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ ایسی ایسی چیزوں سے مراد معصیت پر مشتمل کوئی نذر ہو یا ایسی نذر ہو جس کا ذکر کرنا مناسب نہ ہو، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو شیطان کی طرف منسوب کیا۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي
حدیث نمبر: 5356
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ لَيْلَةً فَقَالَ لَهُ فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دورِ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر کو پورا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5356]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2042، ومسلم: 1656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 255»
وضاحت: فوائد: … اعتکاف کے لیے نہ ماہِ رمضان ضروری ہے، نہ زیادہ ایام، اعتکاف کی درج ذیل تعریف پر غور کریں:
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2042
حدیث نمبر: 5357
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنِ ابْنَةِ كَرْدَمَةَ عَنْ أَبِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبِلِي فَقَالَ إِنْ كَانَ عَلَى جَمْعٍ مِنْ جَمْعِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى عِيدٍ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى وَثَنٍ فَلَا وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَاقْضِ نَذْرَكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَى أُمِّ هَذِهِ الْجَارِيَةِ مَشْيًا أَفَتَمْشِي عَنْهَا قَالَ نَعَمْ
۔ بنت ِ کردمہ اپنے باپ سے روایت کرتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سوال کیا: میں نے تین اونٹ نحر کرنے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نذر کا تعلق جاہلیت کے کسی اکٹھ یا جاہلیت کی کسی عید کی مناسبت سے ہے یا کسی بت پر ہے تو اس کو پورا نہیں کیا جائے گا، اگر ان تین امور کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے ہے تو تواپنی نذر پوری کر۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس لڑکی کی ماں پر پیدل چلنے کی نذر ہے، کیا یہ لڑکی اس کی طرف سے چل سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5357]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عمرو بن شعيب لم يسمع من ابنة كردمة، أخرجه ابوداود: 3315، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23196 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23583»
وضاحت: فوائد: … جاہلیت کے اکٹھ سے مراد لوگوں کا جاہلیت کے رسم و رواج کے مطابق لہوو لعب کا اہتمام کرنا ہے،بت اور جاہلیت کی عید کے بارے میں مسئلہ ایسے ہی ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 5358
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ أَنَّ أَبَاهَا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ عَدَدًا مِنَ الْغَنَمِ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ خَمْسِينَ شَاةً عَلَى رَأْسِ بُوَانَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَلْ عَلَيْهَا مِنْ هَذِهِ الْأَوْثَانِ شَيْءٌ قَالَ لَا قَالَ فَأَوْفِ لِلَّهِ بِمَا نَذَرْتَ لَهُ قَالَتْ فَجَمَعَهَا أَبِي فَجَعَلَ يَذْبَحُهَا وَانْفَلَتَتْ مِنْهُ شَاةٌ فَطَلَبَهَا وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَوْفِ عَنِّي بِنَذْرِي حَتَّى أَخَذَهَا فَذَبَحَهَا
۔ سیدنا کردم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی کہ میں نے بوانہ مقام پر پچاس بکریاں ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہاں ان بتوں میں سے کوئی بت ہے؟ میںنے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم نے اللہ تعالیٰ کے لیے جو نذر مانی ہے، اس کو اس کے لیے پورا کرو۔ پس انھوں نے بکریاں جمع کر کے ان کو ذبح کرنا شروع کیا، ایک بکری بھاگ گئی، وہ اس کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑنے لگے اور اس دوران وہ یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! میری نذر پوری کر دے، یہاں تک کہ انھوں نے اس کو پکڑ لیا اور ذبح کر دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5358]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 3314، وابن ماجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27604»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5359
عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ عَنْ أَبِيهَا كَرْدَمِ بْنِ سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ نُذِرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلِوَثَنٍ أَوْ لِنُصُبٍ قَالَ لَا وَلَكِنْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فَأَوْفِ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا جَعَلْتَ لَهُ انْحَرْ عَلَى بُوَانَةَ وَأَوْفِ بِنَذْرِكَ
۔ سیدنا کردم بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جاہلیت میں مانی گئی نذر کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا وہ کسی بت یا پتھر کے لیے تو نہیں تھی؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کے لیے پورا کرو، جو کچھ تم نے مقرر کیا ہے، اس کو بوانہ پر نحر کرو اور اس طرح اپنی نذر پوری کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5359]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه بنحوه ابن ماجه: 2131، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15456 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15535»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کرنے کی نذر قابل تعریف ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محمود نذر کے لیے مقام کا تعین کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ کوئی ایسی جگہ نہ ہو جس سے مشرکوں سے کوئی مشابہت لازم آتی ہو۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 5360
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَمَةً سَوْدَاءَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَجَعَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ فَقَالَتْ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ صَالِحًا أَنْ أَضْرِبَ عِنْدَكَ بِالدُّفِّ قَالَ إِنْ كُنْتِ فَعَلْتِ فَافْعَلِي وَإِنْ كُنْتِ لَمْ تَفْعَلِي فَلَا تَفْعَلِي فَضَرَبَتْ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ وَدَخَلَ غَيْرُهُ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ قَالَ فَجَعَلَتْ دُفَّهَا خَلْفَهَا وَهِيَ مُقَنَّعَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَفْرَقُ مِنْكَ يَا عُمَرُ أَنَا جَالِسٌ هَاهُنَا وَدَخَلَ هَؤُلَاءِ فَلَمَّا أَنْ دَخَلْتَ فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ
۔ عبد اللہ بن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوے سے واپس آئے تو سیاہ رنگ کی ایک لونڈی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فاتح لوٹایا تو میں آپ کے پاس دف بجاؤں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر نذر مانی ہے تو ٹھیک ہے (دف بجا لے)، وگرنہ نہیں۔ اس نے دف بجانا شروع کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، وہ بجاتی رہی، دوسرے صحابہ آئے، وہ اسی حالت پر رہی۔ لیکن جب سیدناعمر رضی اللہ عنہ آئے تو اس نے دف چھپانے کے لیے اسے اپنے نیچے رکھ دیا اور دوپٹا اوڑھ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! شیطان تجھ سے ڈرتا ہے۔ میں اور یہ لوگ یہاں بیٹھے تھے(یہ دف بجاتی رہی) لیکن جب تم داخل ہوئے تو اس نے ایسے ایسے کر دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5360]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه الترمذي: 3690، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22989 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23377»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ اس موقع پر اس لونڈی کا دف بجانا جائز تھا، تبھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رعب اور ہیبت تھی، جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی لحاظ کرتے تھے۔
الحكم على الحديث: اسناده قوي