الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ مَنْ نَذَرَ نَدْرًا مُبَاحًا أَوْ غَيْرَ مَشْرُوعٍ أَوْ لَا يُطِيقُهُ وَكَفَّارَهُ ذَلِكَ
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
حدیث نمبر: 5379
عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو إِسْرَائِيلَ يُصَلِّي فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا يَقْعُدُ وَلَا يُكَلِّمُ النَّاسَ وَلَا يَسْتَظِلُّ وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَقْعُدْ وَلْيُكَلِّمِ النَّاسَ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَصُمْ
۔ سیدنا ابو اسرائیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ ابو اسرائیل نماز پڑھ رہا تھا، کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! یہ ابو اسرائیل ہے، یہ نہ بیٹھتا ہے، نہ لوگوں سے بات کرتا ہے، نہ سائے میں آتا ہے اور یہ روزے کا ارادہ بھی رکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ وہ بیٹھ جائے، لوگوں سے بات کرے، سائے میں آ جائے اور روزہ رکھے لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5379]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني: 22/ 973، وعبد الرزاق: 15818، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17673»
وضاحت: فوائد: … نہ بیٹھنا، لوگوں سے بات نہ کرنا اور سایہ حاصل نہ کرنا ایسے امور ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کیا جا سکتا، البتہ روزہ اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو برقرار رکھا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح