🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعِ الْخَمْرِ وَالنَّجَاسَةِ وَمَا لَا نَفْعَ فِيهِ النَّهَى عَن ثَمَنِ الكَلْبِ وَالنور والحرية ومهر البغي وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ وَبَيْعِ الْمُغَنِيَاتِ
شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5799
قَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ بِمَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَامَ الْفَتْحِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ فَقِيلَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ قَالَ لَا هُوَ حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهَا الشُّحُومَ جَمَلُوهَا ثُمَّ بَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا
۔ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اوراس کے رسو ل نے شراب، مردار، خنزیر،اوربتوں کی تجارت کو حرام قراردیا ہے۔ اس وقت کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے حکم کے بارے میں غور کریں! کیونکہ اس سے کشیتوں اور چمڑو ں کونرم کیاجاتاہے اور لوگ اس سے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، اس کی تجارت حرام ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کوبرباد کرے، جب اللہ تعالی نے ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اس کو پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھا گئے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5799]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2236، ومسلم: 1581، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14526»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے دو مسئلے ثابت ہوتے ہیں: (۱) جو چیز حرام ہے، اس کی خرید و فروخت بھی حرام ہے، (۲) کسی آدمی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کوئی حیلہ استعمال کر کے حرام چیز کو کسی اور چیز کی شکل دے دے، جیسےیہودیوں نے حرام چربی کو پگھلا کر اس کو دوسری شکل میں تبدیل کر لیا تھا، عربی زبان میں چربی کو ”شَحَم“ اور پگھلی ہوئی چربی کو ”وَدَک“ کہتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2236
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5800
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تھے: اللہ تعالیٰ او راس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کی تجارت کو حرام قراردیا ہے، …۔ پھر راوی نے درج بالا حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5800]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6997»

الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5801
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب سو رۂ بقرہ کے آخر والی سودسے متعلقہ آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور شر اب کی خریدوفروخت کو حرام قرار دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5801]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 459، 4540، ومسلم: 1580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26048»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 459
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5802
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي الْمَسْجِدِ مُسْتَقْبِلًا الْحَجَرَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الْشُّحُومُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد ِ حرام میں حجر اسود کے سامنے تشریف فرماتھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے اور پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کر ے، ان پر چر بی کو حرام کیاگیا، لیکن انہوں نے اس کو فروخت کیا اور اس کی قیمت کو کھا گئے، حالا نکہ جب اللہ تعالیٰ لوگوں پر کسی چیز کاکھانا حرام کرتا ہے تو ان پر اس کی قیمت کو بھی حرام کردیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5802]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3488، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2221 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2221»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں ایک ضابطہ بیان کیا گیا ہے کہ حرام چیز کی تجارت اور قیمت حرام ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3488
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5803
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5803]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8730»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5804
عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْبُنَانِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَشْتَرِي هَذِهِ الْحِيطَانَ تَكُونُ فِيهَا الْأَعْنَابُ فَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَبِيعَهَا كُلَّهَا عِنَبًا حَتَّى نَعْصِرَهُ قَالَ فَعَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ تَسْأَلُنِي سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ أَكَبَّ وَنَكَتَ فِي الْأَرْضِ وَقَالَ الْوَيْلُ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَقَدْ أَفْزَعَنَا قَوْلُكَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ لَيْسَ عَلَيْكُمْ مِنْ ذَلِكَ بَأْسٌ إِنَّهُمْ لَمَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الْشُّحُومُ فَتَوَاطَأُوهُ فَيَبِيعُونَهُ فَيَأْكُلُونَ ثَمَنَهُ وَكَذَلِكَ ثَمَنُ الْخَمْرِ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ
۔ عبد الوا حد بنانی کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا، ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے ابو عبدالر حمن!میں باغات خریدتا ہوں، بعض میں انگورلگے ہوتے ہیں، چونکہ ان سب کو انگورہی کی صورت میں فروخت کرنا ممکن نہیں ہے، اس لیے کیا ہم ان کا رس نکال سکتے ہیں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم مجھ سے شراب کی قیمت کے بارے میں سوال کر رہے ہو؟ اب میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف سراٹھایا، پھر اس کو زمین کی جانب جھکایا اور زمین میں کریدا اور پھر فرمایا: بنی اسرائیل کے لئے ہلاکت ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عر ض کی: اے اللہ کے نبی! بنی اسرائیل سے متعلقہ آپ کے ارشاد نے ہمیں گھبرا دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے آپ پر کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے، ان پر جب چربی حرام کی گئی تو انھوں نے حیلہ کیا اور(اس کو پگھلا کر) بیچا اور اس کی قیمت کھا گئے، بالکل اسی طرح شراب کی قیمت تم پر حرام ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5804]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5982 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5982»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا وہی مفہوم ہے جو اس باب کی پہلی حدیث کا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5805
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ فَلْيُشَقِّصِ الْخَنَازِيرَ يَعْنِي يُقَصِّبُهَا
۔ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص شراب کی تجارت کرتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ خنزیروں کاقصاب بن جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5805]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال عمر بن بيان التغلبي۔ أخرجه ابوداود: 3489، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18214 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18401»
وضاحت: فوائد: … یہ زجرو توبیخ کا ایک انداز ہے، یعنی جو شخص شراب کی خرید و فروخت کرتا ہے، اس کو چاہیے کہ وہ خنزیروں کا گوشت فروخت کیا کرے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال عمر بن بيان التغلبي۔ أخرجه ابوداود: 3489
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5806
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ذُكِرَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ سَمُرَةَ وَقَالَ مَرَّةً بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الْشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کوجب یہ اطلاع ملی کہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب فروخت کی ہے تو انھوں نے کہا: اللہ تعالی سمرہ کو ہلاک کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایاہے کہ اللہ تعالی نے یہودیوں پر اس لیے لعنت کی تھی کہ ان پر چر بی کو حرام قرار دیا گیا تھا، لیکن انھوں نے اس کو پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5806]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2223، ومسلم: 1582، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 170»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2223
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5807
عَنْ نَافِعِ بْنِ كَيْسَانَ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ يَتَّجِرُ بِالْخَمْرِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ أَقْبَلَ مِنَ الْشَّامِ وَمَعَهُ خَمْرٌ فِي الزِّقَاقِ يُرِيدُ بِهَا التِّجَارَةَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي جِئْتُكَ بِشَرَابٍ جَيِّدٍ فَقَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا كَيْسَانُ إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَكَ قَالَ أَفَأَبِيعُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ وَحُرِّمَ ثَمَنُهَا فَانْطَلَقَ كَيْسَانُ إِلَى الزِّقَاقِ فَأَخَذَ بِأَرْجُلِهَا ثُمَّ أَهْرَاقَهَا
۔ نافع بن کیسان کہتے ہیں: مجھے میرے باپ نے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں شراب کی تجارت کرتے تھے، اس سلسلے میں وہ شام سے شراب کی مشکیں لے کر آئے، لیکن جب انھوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! میں بہت عمدہ شراب لے کر آپ کے پاس آیا ہوں، تو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے کیسان!شراب تیرے جانے کے بعد حرام کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا: تو اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو بیچ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خود بھی حرام کر دی گئی ہے اور اس کا بیچنا بھی حرام کر دیا گیا ہے۔ پس کیسان اُن مشکوں کی طرف گیا اور ان کے کونوں سے پکڑ کر ان کو بہا دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5807]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، ونافعُ بن كيسان مختلف في صحبته۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 438، وفي ’’الاوسط‘‘: 3149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19168»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5808
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ فَقَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدِيقٌ مِنْ ثَقِيفٍ أَوْ مِنْ دَوْسٍ فَلَقِيَهُ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ بِرَاوِيَةِ خَمْرٍ يَهْدِيهَا إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا فُلَانٍ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ عَلَى غُلَامِهِ فَقَالَ اذْهَبْ فَبِعْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا فُلَانٍ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ عَلَى غُلَامِهِ فَقَالَ اذْهَبْ فَبِعْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا فُلَانٍ بِمَاذَا أَمَرْتَهُ قَالَ أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعَهَا قَالَ إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا فَأَمَرَ بِهَا فَأُفْرِغَتْ فِي الْبَطْحَاءِ
۔ عبدالرحمن بن وعلہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے شراب کی خرید و فروخت کے بارے میں سوال کیا،انہوں نے کہا: ثقیف یادوس قبیلے کاایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوست تھا، وہ شراب کا ایک مٹکا لے کر مکہ مکرمہ میں فتح مکہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملا، وہ یہ شراب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطورِ تحفہ دینا چاہتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو فلاں! کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالی نے اس کو حرام کردیا ہے؟ اس آدمی نے اپنے غلام کوحکم دیتے ہوئے کہا: اسے لے جااور فروخت کردے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ابو فلاں! تو نے غلام کو کیاحکم دیا ہے؟ اس نے کہا: جی میں نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اس کو فروخت کر دے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس ذات نے اس کا پیناحرام کیا ہے، اسی نے اس کا بیچنا بھی حرام قرار دیا ہے۔ یہ سن کر اس آدمی نے اس شراب کے متعلق حکم دیا تو وہ وادی ٔ بطحاء میں بہا دی گئی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5808]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1579، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2041»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1579
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں