الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ مَا جَاءَ فِي الخَرْضِ وَبَيْعِ السِّينِ وَوَضْعِ الْجَوَائِحِ
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 5868
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ الْخَرْصِ وَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ هَلَكَ الثَّمَرُ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ مَالَ أَخِيهِ بِالْبَاطِلِ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اندازے سے منع کرتے ہوئے سنا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا بتاؤ کہ اگر پھل تباہ ہو جاتا ہے تو کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ باطل طریقے سے اپنے بھائی کا مال کھائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5868]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله ’’ينھي عن الخرص‘‘ فقد تفرد به ابن لھيعة وھو سييء الحفظ، وقد ثبت خلافه عن النبيV، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15310»
الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قوله ’’ينھي عن الخرص‘‘ فقد تفرد به ابن لھيعة وھو سييء الحفظ
حدیث نمبر: 5869
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَوَضَعَ الْجَوَائِحَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی سالوں کے لئے تجارت کرنے سے منع کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوائح کو معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5869]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرج شطره الاول مسلم: 2874، شطره الثاني: 1554، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14371»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْ بِعْتَ مِنْ اَخِیْکَ ثَمَرًا فَاَصَابَہٗجَائِحَۃٌ فَـلَا یَحِلُّ لَکَ اَنْ تَاْخُذَ مِنْہُ شَیْئًا، بِمْ تَأْخُذُ مِنْہُ شَیْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ اَخِیْکَ بِغَیْرِ حَقٍّ۔)) (صحیح مسلم) … ”اگر تو اپنے بھائی کو پھل فروخت کرتا ہے اور اس پر کوئی آفت آ جاتی ہے تو تیرے لیے حلال نہیں ہے کہ تو اس میں سے کچھ قیمت بھی وصول کرے، بھلا تو کس چیز کے عوض میں اس سے کچھ لے گے، تو بغیر حق کے اپنے بھائی کا مال کیسے لے گا؟“ جوائح سے مراد وہ آسمانی آفات ہیں جن کے باعث کل یا بعض پھل ضائع ہو جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت میں پھل اور فصل کے مالک کو حکم دیا ہے کہ وہ خریدار کو قیمت واپس کر دے۔ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے، لیکن عام طور پر زمیندار لوگ اس کا کوئی لحاظ نہیں کرتے اور وہ ایسے نقصان کی صورت میں سارے کا سارا بوجھ خریدار پر ڈال دیتے ہیں۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرج شطره الاول مسلم: 2874
حدیث نمبر: 5870
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ النَّخْلُ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو تین سالوں تک کھجوروں کا پھل بیچ دینے سے منع فرمایا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5870]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 294، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14424»
وضاحت: فوائد: … ایک ہی عقد میں ایک سال سے زیادہ مدت کے لیے کھجوروں کی ان کے درختوں پر بیع کرنا ”بیع معاومہ“ کہلاتا ہے، اوپر والی سالوں کی بیع سے یہی سودا مراد ہے، اس بیع میں دھوکہ ہے، کیونکہ کوئی علم نہیں کہ کتنا پھل لگے گا اور اس کی نوعیت کیا ہو گی، نیز وہ آخر تک برقرار بھی رہے گا یا نہیں۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 294