🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. باب حُكْمِ مَنْ بَاعَ ذَهَبًا وَغَيْرَهُ بِذَهَبٍ
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5988
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ تُبَاعُ وَهِيَ مِنَ الْغَنَائِمِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلَادَةِ فَنُزِعَ وَحْدَهُ ثُمَّ قَالَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ہار لایا گیا، اس میں سونا اور موتی تھے اور وہ برائے فروخت تھا اور وہ مال غنیمت سے حاصل ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہار میں جو سونا ہے، اس کو الگ کر دیا جائے، پھر فرمایا: سونے کو سونے کے بدلے برابر برابر فروخت کیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الرِّبَا/حدیث: 5988]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1591، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23939 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24436»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1591
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5989
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ اشْتَرَيْتُ قِلَادَةً يَوْمَ خَيْبَرَ بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے خیبر والے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا، اس میں سونا اور موتی تھے۔ جب میں نے اسے علیحدہ علیحدہ کیا تو اس کا سونا ہی بارہ دینار سے زیادہ نکلا، جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک اس کو علیحدہ علیحدہ نہ کیا گیا ہو، اس وقت تک اس کو فروخت نہ کیا جائے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الرِّبَا/حدیث: 5989]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1591، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23962 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24462»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1591
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5990
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ خَيْبَرَ فَبَاعَ الْيَهُودُ الْأُوقِيَّةَ الذَّهَبَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر کی فتح کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، یہودیوں نے ایک اوقیہ کے برابر سونا دو دو اور تین تین دیناروں کے عوض فروخت کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کے عوض سونا فروخت نہ کیا کرو، الا یہ کہ برابر برابر ہو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الرِّبَا/حدیث: 5990]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1591، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24468»
وضاحت: فوائد: … اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ سونے کے عوض ایسی چیز خریدنا ہو، جس میں سونا بھی ہو اور کوئی اور چیز بھی ہو، یا چاندی کے عوض ایسی چیز خریدنا ہو، جس میں چاندی بھی ہو اور کوئی اور چیز بھی، تو اس چیز کے دو سودے ہوں گے، اس میں لگے ہوئے سونے کا الگ سے سودا ہو گا اور اس کے عوض اس کی مقدار کے برابر سونا دینا ہو گا اور دوسری چیز کا الگ سے سودا ہو گا، علی ہذا القیاس۔ بطورِ مثال سونے اور چاندی کا ذکر کیا گیا ہے، وگرنہ یہی مسئلہ ربا الفضل کی باقی اجناس میں بھی ہو سکتا ہے، مثلاً گندم کے عوض گندم اور جو خریدنا، اس موقع پر بھی گندم کا علیحدہ سودا ہو گا اور جَو کا علیحدہ، شریعت کا مدعا یہ ہے کہ کہیں بھی ربا الفضل نہ گھسنے پائے، اگر قارئین کو یہ اصطلاحات اور مسائل سمجھ نہ آئیں تو وہ اہل علم سے رابطہ کر کے دین کا فہم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1591
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں