🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب مَا جَاءَ فِي التَفَاضُلِ وَالنَّسِيئَةِ فِي غَيْرِ الْمَكِيْلِ والمَوزُون وبيع اللحم بالحيوان
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5997
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ وَلَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادھار پر حیوان کے عوض حیوان یعنی دو کے بدلے ایک جانور کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے، اگر نقد و نقد ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الرِّبَا/حدیث: 5997]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1238، وابن ماجه: 2271، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14382»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1238
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5998
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادھار پر حیوان کے عوض حیوان کی تجارت کرنے سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الرِّبَا/حدیث: 5998]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الطبراني: 2057، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21249»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه الطبراني: 2057
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5999
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الرِّبَا/حدیث: 5999]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2270، والنسائي: 7/ 292، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20405»
وضاحت: فوائد: … ان تینوں احادیث کا معنییہ ہے کہ جب حیوان کے بدلے حیوان کی بیع دونوں طرف سے ادھار ہو تو تب منع ہے۔ جب ایک طرف سے ادھار ہو یا ایک جانور کے عوض زیادہ جانور دے جا رہے ہوں تویہ دونوں صورتیں جائز ہوں گی، جیسا کہ اگلی دونوں احادیث سے معلوم ہو رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2270
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6000
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ صَفِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آ گئی تھیں، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک خوبصورت لونڈی سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آ گئی ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سات افرادکے عوض خرید لیا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الرِّبَا/حدیث: 6000]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: ص 1045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12265»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: ص 1045
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6001
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَرِيشِ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ إِنَّا بِأَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ وَإِنَّمَا نُبَايِعُ بِالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ إِلَى أَجَلٍ فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ قَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ حَتَّى نَفِدَتْ وَبَقِيَ نَاسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِ لَنَا إِبِلًا بِقَلَائِصَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ إِذَا جَاءَتْ حَتَّى نُؤَدِّيهَا إِلَيْهِمْ فَاشْتَرَيْتُ الْبَعِيرَ بِالِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثِ قَلَائِصَ حَتَّى فَرَغْتُ فَأَدَّى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ
۔ عمر بن حریش کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ہم ایک ایسے علاقے میں ہیں کہ جہاں دینارہے نہ درہم، اس لیے ہم ادھار کی ایک مدت تک کے لئے اونٹ اور بکریوں کا لین دین کرتے ہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے اس مسئلہ کے بارے میں باخبر آدمی سے سوال کیا ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں سے ایک لشکر تیار کیا، مگر ابھی تک تیاری مکمل نہ ہوئی تھی کہ اونٹ ختم ہوگئے، جبکہ لوگوں کی ضرورت ابھی تک باقی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: ہمارے لئے صدقہ کی اونٹنیوں کے عوض اونٹ خرید لو،جب میسر آئیں گی تو ہم مالکان کو ادا کردیں گے۔ پھر میں نے دو دو تین تین اونٹنیوں کے عوض ایک ایک اونٹ خریدا،یہاں تک کہ تعداد مکمل ہو گئی، پھر جب صدقہ کے اونٹ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ادا کر دیئے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الرِّبَا/حدیث: 6001]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 3357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6593 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6593»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں دو امور کا بیان ہے، اونٹوں کی اس بیع میں اونٹ ایک طرف سے ادھار تھے اور ایک اونٹ کے عوض دو تین تین اونٹ دیئے گئے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 3357
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں