الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَنْ وُكِّلَ فِي شَرَاءِ شَيْءٍ فَاشْتَرَى بِالثَّمَنِ أَكْثَرَ مِنْهُ وَتَصْرفَ فِي الزَّيَادَةِ
اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے ¤اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 6099
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِينَ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَدْفَعَهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ
۔ سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ امانت دار منشی جو مالک کے حکم کے مطابق پورا پورا اور خوش دلی سے اس کو دے دیتا ہو، جس کے حق میں اس کو حکم دیا جاتا ہے، وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْوَكَالَةِ/حدیث: 6099]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1438، 3219، ومسلم: 1023، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19741»
وضاحت: فوائد: … وکالت کامطلب یہ ہے کہ اپنامعاملہ دوسرے کو سونپ دینا، اس کے جواز پر کتاب وسنت کے بہت سارے دلائل موجودہیں۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1438
حدیث نمبر: 6100
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِصَدَقَةٍ قَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِ أَبِي فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدقہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دینے والے کے لیےیوں دعا کرتے: اے اللہ! اس آدمی پر رحمت فرما۔ ایک دفعہ میں اپنے باپ کے مال کاصدقہ لے کرآیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ!ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْوَكَالَةِ/حدیث: 6100]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1497، 4166، 6332، ومسلم: 1078، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19325»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنے مال کی زکوۃ اپنے بیٹے کے سپرد کر دی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1497
حدیث نمبر: 6101
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِهَدْيِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِلُحُومِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قر بانیاں دے کر بھیجا تھا اور یہ حکم دیا تھا کہ ان کا گو شت، چمڑے اور جھولیں صدقہ کر دینا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْوَكَالَةِ/حدیث: 6101]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1717، ومسلم: 1317، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 894 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 894»
وضاحت: فوائد: … ہر جائز امر میں وکالت درست ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی احادیث اس کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1717