🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بابُ النَّهْي عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ مُطْلَقًا
زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6118
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ يَا ابْنَ خَدِيجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ قَالَ رَافِعٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقَدْ سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے ابن خدیج! تم زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا بیان کرتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے اپنے دوچچو ں سے سنا، وہ اپنے گھر والوں کو یہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ وَكِرَاءِ الْأَرْضِ/حدیث: 6118]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2345، ومسلم: 1547، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15919»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2345
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6119
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مِنْ عُمُومَتِي فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالْأَرْضِ فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا أَوْ يُزْرِعَهَا وَكَرِهَ كِرَاءَهَا وَمَا سِوَى ذَلِكَ
۔ سیدنا رافع ابن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں زمین کو تہائی اور چوتھائی پیداوار اور معین غلے کے عوض کرائے پر دیا کرتے تھے، میرے ایک چچا ہمارے ہاں آئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کر دیا ہے، جو ہمارے لئے سود مند تھا، بہرحال اللہ تعالی اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لئے زیادہ مفید ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں زمین کو تہائی اور چوتھائی پیداواریا غلے کی معین مقدار کے عوض کرائے پر دینے سے منع فرما دیا ہے اور زمین کے مالکوں کو حکم دیا ہے کہ وہ خود کاشت کریں یا کسی کو کاشت کرنے کے لیے دے دیں، اس کے علاوہ باقی صورتوں کو ناپسند کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ وَكِرَاءِ الْأَرْضِ/حدیث: 6119]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15823 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15917»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1548
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6120
عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ قُلْتُ وَمَا الْمُخَابَرَةُ قَالَ يُؤْجَرُ الْأَرْضُ بِنِصْفٍ أَوْ بِثُلُثٍ أَوْ بِرُبُعٍ
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مخابرہ سے منع فرمایا ہے، میں نے کہا: مخابرہ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: زمین کو نصف یا تہائی یاچوتھائی پیدوار کے عوض کرائے پر دینا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ وَكِرَاءِ الْأَرْضِ/حدیث: 6120]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3407، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21970»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3407
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6121
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ فَتَرَكْنَاهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مخابرہ کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اس خیال کا اظہار کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، پھر ہم نے اس کو ترک ہی کردیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ وَكِرَاءِ الْأَرْضِ/حدیث: 6121]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2345، ومسلم: 1547، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15803 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15896»
وضاحت: فوائد: … ان تمام احادیث میں زمین کو کرائے پر دینے سے منع کر دیا گیا ہے، اگلے ابواب کا مطالعہ جاری رکھیں اور یہ نکتہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ممانعت کی کیا وجہ ہے اور جواز کی کون سی صورتیں ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2345
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں