الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بابُ فَضْلِ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مِيتَةً
بے آباد زمین آباد کرنے والے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6160
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَلَهُ فِيهَا يَعْنِي أَجْرًا وَمَا أَكَلَتِ الْعَوَافِي مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مردہ زمین آباد کرے گا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور رزق طلب کرنے والے جو جان دار بھی وہاں سے کھائیں گے، اس کے لیےیہ صدقہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6160]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3073، والترمذي: 1379، والنسائي: 5757، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14322»
وضاحت: فوائد: … مردہ زمین سے مراد وہ زمین ہے، جو کسی کی ملکیت نہ ہو، نہ عوام میں سے کسی کی اور نہ حکومت کی۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3073
حدیث نمبر: 6161
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ فَهِيَ لَهُ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی زمین پر دیوار کا گھیرا کر لے گا تو وہ اسی کی ہو گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6161]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 76، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 5763، والبيھقي: 6/ 148، والطيالسي: 906، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20392»
وضاحت: فوائد: … اس گھیراؤ سے مراد زمین کو زندہ کرنا اور آباد کرنا ہے، یہ معنی نہیں ہے کہ چاردیواری بنا کر قبضہ کر لیا جائے اور اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ کیا جائے۔
الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 76
حدیث نمبر: 6162
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ فَهِيَ لَهُ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی زمین پر دیوار کا گھیرا کر لے گا تو وہ اسی کی ہو گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6162]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20501»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 6163
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَمَرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایسی زمین آباد کرے، جو کسی کی ملکیت نہ ہو تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6163]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2335، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25395»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2335
حدیث نمبر: 6164
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مَكْحُولٍ رَفَعَهُ قَالَ أَيُّمَا شَجَرَةٍ أَظَلَّتْ عَلَى قَوْمٍ فَصَاحِبُهَا بِالْخِيَارِ مِنْ قَطْعِ مَا أَظَلَّ أَوْ أَكْلِ ثَمَرِهَا
۔ مکحول تابعی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو درخت کسی قوم پر سایہ کرنے لگے تو سائے والے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سایہ کرنے والے حصے کو کاٹ دے یا اس کا پھل کھا لے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6164]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لارساله، مكحول الشامي تابعي، لم يدرك النبيV۔ أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16164»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لارساله