الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ إِقْطَاعِ الْمَعَادِن
کان الاٹ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6181
عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ لِلزَّرْعِ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا أَعْطَى مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ لِلزَّرْعِ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ
۔ عمرو بن عوف اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کو قبلیہ علاقے کی کانیں برائے جاگیر عنایت فرمادیں، اس مقام کی بلند اور پست زمین اور قدس پہاڑ میں جو کاشت کے قابل تھی، وہ سب انہیں دے دی تھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کسی مسلمان کا حق نہیں دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں یہ تحریر لکھی تھی: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ،یہ وہ زمین ہے، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قبلیہ علاقے کی کانیں دی ہیں، اس مقام کی بلند اور پست زمین اور قدس پہاڑ میں جو کاشت کے قابل ہے، وہ ان کو دے دی ہے، جبکہ یہ کسی مسلمان کا حق نہیں تھا، جو ان کو دے دیا ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6181]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3062، 3063، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2785»
وضاحت: فوائد: … یہ زمین بھی کسی کی مملوکہ نہ تھی، حاکم وقت ایسی قیمتی چیز بھی کسی کو الاٹ کر سکتا ہے، لیکنیہاں ایک اور روایت بھی قابل توجہ ہے: سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نمک کی کان عنایت کر دی،یہ معاملہ دیکھ کر حاضرین میں سے ایک آدمی نے کہا: آپ نے تو اس شخص کو دائمی منفعت عطا کر دی ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہ کان واپس لے لی۔ (ابوداود: ۳۰۶۴، ترمذی: ۱۳۸۰)
اس باب کی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کان الاٹ کر دی، لیکن سیدنا ابیض رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کان جیسی چیز کسی خاص بندے کو الاٹ نہیں کرنی چاہیے، ان دو احادیث میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ کان کی دو قسمیں ہوتی ہیں: (۱) باطنی کانیں: یہ وہ کانیں ہوتی ہیں،جن کے حصول کے لیے محنت و مشقت درکار ہوتی ہے، مثلا لوہا اور تانبا وغیرہ۔ (۲) ظاہری کانیں: یہ وہ کانیں ہوتی ہیں، جن کے حصول کے لیے مشقت درکار نہیں ہوتی، جیسے نمک، تیل اور سرمہ وغیرہ۔ حکمران کسی کوباطنی کانیں تو الاٹ کر سکتا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کو دی تھی، لیکن ظاہری کانیں کسی کو عنایت نہیں کرنی چاہئیں، تاکہ سارے لوگ برابر کا فائدہ حاصل کرسکیں اور ان پر کوئی تنگی نہ ہو، سیدنا ابیض رضی اللہ عنہ کی حدیث کا یہی مفہوم ہے۔
اس باب کی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کان الاٹ کر دی، لیکن سیدنا ابیض رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کان جیسی چیز کسی خاص بندے کو الاٹ نہیں کرنی چاہیے، ان دو احادیث میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ کان کی دو قسمیں ہوتی ہیں: (۱) باطنی کانیں: یہ وہ کانیں ہوتی ہیں،جن کے حصول کے لیے محنت و مشقت درکار ہوتی ہے، مثلا لوہا اور تانبا وغیرہ۔ (۲) ظاہری کانیں: یہ وہ کانیں ہوتی ہیں، جن کے حصول کے لیے مشقت درکار نہیں ہوتی، جیسے نمک، تیل اور سرمہ وغیرہ۔ حکمران کسی کوباطنی کانیں تو الاٹ کر سکتا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کو دی تھی، لیکن ظاہری کانیں کسی کو عنایت نہیں کرنی چاہئیں، تاکہ سارے لوگ برابر کا فائدہ حاصل کرسکیں اور ان پر کوئی تنگی نہ ہو، سیدنا ابیض رضی اللہ عنہ کی حدیث کا یہی مفہوم ہے۔
الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3062
حدیث نمبر: 6182
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6182]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2785»
الحكم على الحديث: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2785