🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ فِي أَيِّ شَيْءٍ تَكُونُ الشُّفْعَةُ وَلِمَنْ تَكُونُ
اس چیز کا بیان کہ کس چیز میں اور کس کے لیے شفعہ کا حق ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6223
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ بَاعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ساجھی چیز میں شفعہ ہے، وہ گھر ہو یا باغ، ایک شریک کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایسی چیز کو فروخت کر دے، یہاں تک کہ وہ اپنے شریک کو اس سے آگاہ کرے، اگر وہ شریک کو بتلائے بغیر فروخت کر دیتا ہے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا، یہاں تک کہ وہ اس کو خبر دے دے۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6223]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1608، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)14403 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14456»
وضاحت: فوائد: … ایک روایت میں ہے: قَضَی النَّبِیُّV بِالشُّفْعَۃِ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے۔ (ابوداود: ۳۵۱۳، ترمذی: ۱۳۷۰)

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1608
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6224
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ بَيْنَ الشُّرَكَاءِ فِي الْأَرَضِينَ وَالدُّورِ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمینوں اور گھروں میں شرکاء کے درمیان حق شفعہ کا فیصلہ دیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6224]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»

الحكم على الحديث: صحيح بالشواھد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6225
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَيْرِهِ
۔ سیدنا سمرہ بن جناب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھر کا ہمسایہ دوسروں کی بہ نسبت گھر خریدنے کا زیادہ حقدار ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6225]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3517، والترمذي: 1368، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20088 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20348»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3517
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6226
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَةِ جَارِهِ يُنْتَظَرُ بِهَا وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِنْ كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمسایہ اپنے ہمسائے کے شفعہ (فروخت کیے جانے والے حصہ) کازیادہ حقدار ہے، اگر وہ غائب ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا، لیکن یہ زیادہ حق اس وقت ہو گا، جب ان کا راستہ ایک ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6226]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3518، وابن ماجه: 2494، والترمذي: 1369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14253 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14303»

الحكم على الحديث: قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3518
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6227
عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَيْرِهِ
۔ سیدنا شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھر کا پڑوسی دوسروں کے بہ نسبت اس گھر کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6227]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2496، والنسائي: 7/ 320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19688»

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2496
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6228
عَنِ الْحَكَمِ عَمَّنْ سَمِعَ عَلِيًّا وَابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْجِوَارِ
۔ سیدنا علی اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑوس کے حق کی بنا پر فیصلہ کیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6228]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 923»

الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 163
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6229
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شِرْكٌ وَلَا قَسْمٌ إِلَّا الْجِوَارَ قَالَ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ
۔ سیدنا شرید بن سوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! ایک زمین ہے، اس میں نہ تو کسی کی شراکت ہے اور نہ کسی کا کوئی حصہ ہے، البتہ صرف ہمسایہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ حق رکھتا ہے، وہ چیز جو بھی ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6229]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2496، والنسائي: 7/ 320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19706»

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2496
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6230
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شِرْكٌ وَلَا قَسْمٌ إِلَّا الْجِوَارَ قَالَ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے چیز خریدنے کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6230]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6977، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19706»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ ہر مشترک چیز میں حصہ دار کو شفعہ کرنے کا حق حاصل ہے، درج بالا احادیث میں اس چیز کا بھی ذکر ہے کہ پڑوسی کو بھی شفعہ کرنے کا حق حاصل ہے، اس امر کی وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔ ان شاء اللہ

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6977
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں