الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. قبول رَسُولِ اللهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ الْهَدِيَّةَ وَإِنْ كَانَتْ حَقِيرَة لا الصَّدَقَةَ وَإِنْ كَانَتْ عَظِيمَةٌ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ قبول کرنا، اگرچہ وہ حقیر سا ہو اور صدقہ قبول نہ کرنا، اگرچہ وہ قیمتی ہو
حدیث نمبر: 6268
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ أَكَلَ وَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ قَالَ كُلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں سوال کرتے، پس اگر کہا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھا لیتے، اور اگر کہا جاتا ہے کہ صدقہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: تم لوگ کھا لو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود نہ کھاتے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6268]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2576، ومسلم: 1077، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9253»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2576
حدیث نمبر: 6269
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ بہز بن حکیم اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادے سے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6269]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20313»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 656
حدیث نمبر: 6270
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَهْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا فَلَمْ تَجِدْهُ فَقَالَتْ لَهَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ يُؤْكَلَ طَعَامُ الْأَعْرَابِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فَقَالَ مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُنْبُلَةَ قَالَتْ لَبَنًا أَهْدَيْتُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ فَسَكَبَتْ فَقَالَ نَاوِلِي أَبَا بَكْرٍ فَفَعَلَتْ فَقَالَ اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ فَسَكَبَتْ فَنَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنْ لَبَنٍ وَأَبْرَدَهَا عَلَى الْكَبِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ حُدِّثْتُ أَنَّكَ قَدْ نَهَيْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِالْأَعْرَابِ هُمْ أَهْلُ بَادِيَتِنَا وَنَحْنُ أَهْلُ حَاضِرَتِهِمْ وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا فَلَيْسُوا بِالْأَعْرَابِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دودھ کا تحفہ لے کر آئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھر پر نہ پایا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ہمیں بدّو لوگوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! یہ تیرے پاس کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دودھ ہے، آپ کے لیے بطورِ تحفہ لائی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! اس کو پیالے میں ڈالو۔ انھوں نے اس کو پیالے میں ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو پکڑاؤ۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! اور ڈالو۔ انھوں نے اور ڈالا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دودھ پی رہے ہیں اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلیجے کو کتنا ہی ٹھنڈا کر رہا ہے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے تو یہ بات بیان کی گئی تھی کہ آپ نے بدوؤں کے کھانے سے منع فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! یہ لوگ بدّو نہیں ہیں،یہ ہمارے شہر کے متصل بیرونی علاقے سے ہیں اور ہم ان کے شہر سے ہیں، جب ان لوگوں کو (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کے امور کے لیے) بلایا جاتا ہے تو یہ جواب دیتے ہیں، یہ بدّو نہیں ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6270]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابويعلي: 4773، والطحاوي: 4/ 167، والبزار في ’’مسنده‘‘: 1940، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25524»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد حدیث نمبر (۶۲۷۴) ہو، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کی بدوؤں کے کھانے سے ممانعت والی بات پر برقرار رکھا، اس لیے اب اس کا مفہوم بیان کرنا ضروری ہے کہ ممانعت کی کیا وجہ ہے، زیادہ سے زیادہ دو وجوہات ہو سکتی ہیں:
(۱) بعض بدو اکھڑ مزاج، سخت دل اور غلیظ الطبع ہوتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَیَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَائِرَ} … ”اور ان دیہاتیوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں، اس کو جرمانہ سمجھتے ہیں اور تم مسلمانوں کے واسطے برے وقت کے منتظر رہتے ہیں۔“ (سورۂ توبہ: ۹۸) یہ بدوؤں کی مذموم قسم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے، جبکہ بعض بدّو قابل تعریف ہوتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللّٰہِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ} … ”اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالی پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں، اس کو عند اللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں۔ “ (سورۂ توبہ: ۹۹)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہا کو قابل تعریف بدوؤں میں سے قرار دیا، نہ کہ مذموم دیہاتیوں میں سے۔
(۲) یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ بدو لوگ نہ صرف حلال و حرام کے علم سے محروم ہوتے ہیں، بلکہ سمجھ ہونے کے باوجود غیر محتاط بھی ثابت ہوتے ہیں اور ذبح، شکار اور کھانے پینے کے دوسرے معاملات میں اسلامی آداب کو مد نظر نہیں رکھتے۔ ہم نے خود ایسے لوگوں کو کتوں کے ذریعے شکار کرتے دیکھا ہے، یہ شکار پر کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ بھی نہیں پڑھتے اور جب شکار کو کتوں سے چھین کر ذبح کرتے ہیں تو یہ جائزہ بھی نہیں لیتے کہ وہ ذبح سے پہلے مر چکا تھا یا ابھی تک زندگی کی رمق باقی تھی۔ ہاں جب کسی خاص شخص کے بارے میں ظن غالب یہ ہو کہ وہ ذی شعور ہے اور اسلامی احکام کا علم رکھتا ہے اور ان کا پابند بھی ہے، تو اس کے ساتھ یہ معاملات کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
(۱) بعض بدو اکھڑ مزاج، سخت دل اور غلیظ الطبع ہوتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَیَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَائِرَ} … ”اور ان دیہاتیوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں، اس کو جرمانہ سمجھتے ہیں اور تم مسلمانوں کے واسطے برے وقت کے منتظر رہتے ہیں۔“ (سورۂ توبہ: ۹۸) یہ بدوؤں کی مذموم قسم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے، جبکہ بعض بدّو قابل تعریف ہوتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللّٰہِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ} … ”اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالی پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں، اس کو عند اللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں۔ “ (سورۂ توبہ: ۹۹)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہا کو قابل تعریف بدوؤں میں سے قرار دیا، نہ کہ مذموم دیہاتیوں میں سے۔
(۲) یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ بدو لوگ نہ صرف حلال و حرام کے علم سے محروم ہوتے ہیں، بلکہ سمجھ ہونے کے باوجود غیر محتاط بھی ثابت ہوتے ہیں اور ذبح، شکار اور کھانے پینے کے دوسرے معاملات میں اسلامی آداب کو مد نظر نہیں رکھتے۔ ہم نے خود ایسے لوگوں کو کتوں کے ذریعے شکار کرتے دیکھا ہے، یہ شکار پر کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ بھی نہیں پڑھتے اور جب شکار کو کتوں سے چھین کر ذبح کرتے ہیں تو یہ جائزہ بھی نہیں لیتے کہ وہ ذبح سے پہلے مر چکا تھا یا ابھی تک زندگی کی رمق باقی تھی۔ ہاں جب کسی خاص شخص کے بارے میں ظن غالب یہ ہو کہ وہ ذی شعور ہے اور اسلامی احکام کا علم رکھتا ہے اور ان کا پابند بھی ہے، تو اس کے ساتھ یہ معاملات کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابويعلي: 4773
حدیث نمبر: 6271
عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ هَلْ مِنْ طَعَامٍ قُلْتُ لَا إِلَّا عَظْمًا أُعْطِيَتْهُ مَوْلَاةٌ لَنَا مِنَ الصَّدَقَةِ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَرِّبِيهِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا
۔ سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اورفرمایا: کیا کوئی کھانا ہے؟ میں نے کہا: جی کچھ نہیں ہے، البتہ (گوشت والی) وہ ہڈی ہے، جو ہماری لونڈی پر صدقہ کی گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لاؤ، میرے قریب کرو، صدقہ اپنے محل تک پہنچ چکا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6271]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1073، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27420 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27965»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1073