الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحُكْمِ إِلَّا بَعْدَ سَمَاءِ كَلامِ الْخَصْمَيْنِ
قضا اور قاضی کے آداب کا بیان فریقین کا کلام سن لینے سے پہلے فیصلہ کر دینے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6408
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: قَاضِيًا) فَقُلْتُ: تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ أَسَنُّ مِنِّي وَأَنَا حَدَثٌ لَا أُبْصِرُ الْقَضَاءَ؟ قَالَ: فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ: ( (اللَّهُمَّ ثَبِّتْ لِسَانَهُ وَاهْدِ قَلْبَهُ؛ يَا عَلِيُّ! إِذَا جَلَسَ إِلَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِ بَيْنَهُمَا حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الْأَوَّلِ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ تَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ) ) قَالَ: فَمَا اخْتَلَفَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ أَوْ مَا أَشْكَلَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بطورِ قاضی بھیجا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایک جہاندیدہ قوم کی جانب بھیج رہے ہیں، جبکہ میں ابھی نوخیزجوان ہوں اور قضا کا تجربہ بھی نہیں ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینہ پر رکھا اورفرمایا: اے میرے اللہ! اس کی زبان کو ثابت قدم رکھ اور اس کے دل کو راہ ہدایت دے۔ اے علی! جب جھگڑے والے دو آدمی تیرے پاس آئیں تو پہلے کی طرح دوسرے کی بات سنے بغیر فیصلہ نہ کر، اگر تو اس طرح دونوں کی بات سنے گا تو تیرے لیے فیصلہ کرنا واضح ہو جائے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد فیصلہ کرتے وقت میں کبھی بھی کسی اختلاف اور اشکال میں نہیں پڑا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6408]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3582، والترمذي: 1331،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 882 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 882»
وضاحت: فوائد: … کسی بھی قاضی اور حاکم کے لیےیہ بہت بڑا اصول ہے کہ جھگڑا سے متعلقہ تمام فریقوں کی باتیں سن کر تحقیق کرے اور صرف پہلے فریق کا دعوی سننے کے بعد کسی کے ظالم یا مظلوم ہونے کا فیصلہ نہ کرے۔
الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3582