الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ إِثْمِ مَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَإِنْ حُكِمَ لَهُ بِهِ فِي الظَّاهِرِ وَهَلْ يَحْكُمُ الْقَاضِي بِعِلْمِهِ أَمْ لَا
باطل چیز پر جھگڑنے والے کے گناہ کا بیان، اگرچہ بظاہر اس کے لیے فیصلہ کر دیا گیا ہو¤اور اس چیز کا بیان کہ کیا قاضی اپنے علم کی روشنی میں فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں
حدیث نمبر: 6412
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ) لَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا أَقْضِي لَهُ بِمَا يَقُولُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ بِقَوْلِهِ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ، فَلَا يَأْخُذْهَا) )
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک بشر ہوں اور تم میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، اس لیے ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسروں کی بہ نسبت دلائل کے نشیب و فراز سے زیادہ واقف ہے اور میں تو اس کے بیان کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، لہذ ا اگر میں کسی کے حق میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس کو نہ لے، کیونکہ ایسی صورت میں میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6412]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2680، 7169، ومسلم: 1713، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26189»
وضاحت: فوائد: … حاکم نے گواہوں اور دلیلوں کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ حاکم کے فیصلے کا حرام کو حلال کرنے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یعنی اگر وہ کسی چیز کا غیر مستحق آدمی کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہے تو اس فیصلے سے وہ چیز اس آدمی کے لیے حلال نہیں ہو جائے گی، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے، بلکہ وہ حرام ہی رہے گی۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2680
حدیث نمبر: 6413
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اس قسم کی ایک حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6413]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2318، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8375»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2318
حدیث نمبر: 6414
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو علم ہونے کے باوجود ناحق جھگڑا کرے تو وہ اس سے دستبردارہونے تک اللہ تعالی کی ناراضگی میں ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6414]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الحاكم: 2/ 27، والبيھقي: 6/ 82، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5385»
وضاحت: فوائد: … ہمارے ہاں خاندانی اور مذہبی تعصب کی بنا پر ایسی مثالیں موجود ہیں کہ لوگ ظالم کا ساتھ دینے پر تل جاتے ہیں اور عدالتوں اور کچہریوں میں جا کراس کے حق میں جھوٹی گواہیاں دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه الحاكم: 2/ 27