الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ الْقَضَاءِ بِالْقُرْعَةِ فِيمَا إِذَا إِذْهَا الْخَصْمَانِ مِلْكَ شَيْءٍ وَلَمْ يَكُن لَهُمَا بَينَةٌ وَمَا ذَا يَفْعَلُ إِذَا كَانَ لَهُمَا بينةٌ وَتَعَارَضَتِ البَيِّنَاتُ
جب فریقین کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کریں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو قرعہ کے ذریعے فیصلہ کرنے کابیان، اسی طرح اس چیز کی وضاحت کہ اگر دونوں کے پاس گواہ تو ہوں، لیکن متعارض ہوں
حدیث نمبر: 6422
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَارَآ فِي دَابَّةٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ أَحَبَّا أَوْ كَرِهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دوآدمی ایک جانور کے بارے میں جھگڑ پڑے، جبکہ کسی کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قسم اٹھانے پر قرعہ ڈالنے کا حکم دیا،یہ حکم ان کو پسند ہو یا نہ ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6422]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 3616، 3618، وابن ماجه: 2329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10352»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 3616
حدیث نمبر: 6423
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ وَاسْتَحَبَّاهَا فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مدّعِی اور مُدَّعا علیہ دونوں قسم پر مجبور کئے جائیں اور وہ اس کو پسند بھی کریں تو ان میں قسم پر قرعہ ڈالا جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6423]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8194»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری، نسائی اور بیہقی میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((عَرَضَ النَّبِیُّV عَلٰی قَوْمٍ الْیَمِیْنَ فَاَسْرَعَ الْفَرِیْقَانِ جَمِیْعًا فِیْ الْیَمِیْنِ، فَأَمَرَ النَّبِیُّV اَنْ یُسْھَمَ بَیْنَھُمْ فِیْ الْیَمِیْنِ اَیُّھُمْیَحْلِفُ۔)) … ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم پر قسم پیش کی، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریقین کو قسم اٹھانے کے لیے جلدی کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ پہلے قسم کے معاملے میںیہ قرعہ ڈالا جائے کہ قسم کون اٹھائے گا۔“ ان احادیث میں بڑا اہم قانون بیان کیا گیا کہ جب مدّعِی اور مُدّعٰی علیہ کا پتہ نہ چل رہا ہو اور دونوں آدمی قسم اٹھانے پر بھی تل جائیں تو دونوں سے قسم نہیں لی جائے گی، بلکہ قرعہ ڈالا جائے گا اور جس کے حق میں قرعہ نکلے گا، صرف وہ قسم اٹھائے گا، اگر اس نے قسم اٹھا لی تو اس کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8194
حدیث نمبر: 6424
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي دَابَّةٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی ایک چوپائے کا مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی دلیل نہ تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سواری کو ان کے درمیان نصف تقسیم کر دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6424]
تخریج الحدیث: «حديث معلول بين اھل الحديث مع الاختلاف في اسناده علي قتادة۔ أخرجه ابوداود: 3613، والنسائي: 8/ 248، وابن ماجه: 2330، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19832»
الحكم على الحديث: حديث معلول بين اھل الحديث مع الاختلاف في اسناده علي قتادة۔ أخرجه ابوداود: 3613