🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. بَابُ مَنْ يَجُوزُ الْحُكْمُ بِشَهَادَتِهِ وَمَنْ لَا يَجُوزُ.
اس چیز کا بیان کہ کس کی شہادت پر حکم لگانا جائز ہے اور کس کی شہادت پر ناجائز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6427
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ وَلَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ وَيَجُوزُ شَهَادَتُهُ لِغَيْرِهِمْ وَالْقَانِعُ الَّذِي يُنْفِقُ عَلَيْهِ أَهْلُ الْبَيْتِ وَفِي لَفْظٍ وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ الْخَادِمِ التَّابِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ خیانت کرنے والے مرد و زن کی شہادت جائز ہے اور نہ اس کی جس کے دل میں بھائی کے خلاف کینہ ہو، اسی طرح اس شخص کی شہادت بھی جائز نہیں ہے جو کسی خاندان کا خادم اور تابع ہو، ان کے علاوہ باقی سب افراد کی شہادت جائز ہو گی۔ اَلْقَانِع سے مراد وہ شخص ہے، جس پر گھر والے خرچ کرتے ہوں۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ فرد جو کسی گھر والوں کا خادم اور تابع ہو گھر والوں کے حق میں اس کی گواہی رد کی ہے اور باقی افراد کے حق میں جائز قرار دی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6427]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3600، 3601، ابن ماجه: 2366، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6899 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6899»
وضاحت: فوائد: … خائن کا معاملہ واضح ہے، کینہ سے مراد وہ افراد ہیں کہ جن کے درمیان بظاہر دشمنی والا معاملہ ہو، زیادہ تر ایسے ہوتا ہے کہ کسی خاندان کا خادم اور تابع اس خاندان کے بارے میں عدل و انصاف کا ترازو قائم نہیں رکھ سکتا۔

الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3600
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6428
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا مَحْدُودٍ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ خیانت کرنے والے کی شہادت جائز ہے، نہ اس شخص کی جس کو اسلام میں حد لگائی گئی ہو اور نہ اس کی جو اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھتا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6428]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6940»
وضاحت: فوائد: … اگر واضح طور پر معلوم ہو رہا ہو کہ خائن اور حد والے آدمی نے توبہ کر لی ہے اور ان پر توبہ کے آثار دکھائی دے رہے ہوں تو ان شاء اللہ ان کی گواہی قبول کی جائے گی، بہرحال اس مسئلہ میں اختلاف موجود ہے۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6940
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں