🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَاب دَم مَنْ أَذًى شَهَادَةً مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ
بغیر مطالبے کے گواہی دینے والے کی مذمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6433
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَقَالَ الثَّالِثَةَ أَمْ لَا ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں بہترین زمانہ وہ ہے، جس میں میں موجود ہوں، پھر اس کے بعد والے لوگوں کا زمانہ، پھر اس کے بعد والے لوگوں کا زمانہ، (راوی کہتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا تھا یا نہیں)،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر ایسے لوگ آئیں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور وہ گواہی کے مطالبے سے پہلے گواہی دیں گے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6433]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7123 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7123»
وضاحت: فوائد: … موٹاپے کو پسند کرنے سے مراد عیش پرستی اور زیادہ مقدار میں کھانا پینا ہے، جس کا نتیجہ موٹاپے کی صورت میں نکلتا ہے۔
پچھلے باب کی احادیث میں مطالبے سے پہلے گواہی دینے کو سراہا گیا ہے، جبکہ اس حدیث میں مذمت کی جا رہی ہے۔ جمع وتطبیقیہ ہے کہ جب ایک آدمی کو اپنے حق کے بارے میں علم ہو، لیکن پھر بھی اس کے مطالبے کے بغیر اس کے حق میں گواہی دے دی جائے، یہ مذموم گواہی ہو گی، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ آدمی اپنا حق معاف کرنا چاہتا ہو، یا کم از کم لوگوں کے سامنے اس کا ذکر نہ کرنا چاہتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس حدیث میں مذموم گواہی سے مراد جھوٹی گواہی لی ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2534
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6434
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَاتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَاتِهِمْ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بہترین میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو میرے بعد ہوں گے، پھر ان کاجوان کے بعد ہوں گے، پھر ان کا جو ان کے بعد ہوں گے، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کی گواہیاں ان کی قسموں سے آگے بڑھیں گی اور ان کی قسمیں ان کی گواہیوں سے آگے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6434]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6429، ومسلم: 2533، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3594 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3594»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے آخری جملے کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں، ایکیہ کہ گواہی کے ساتھ قسم اٹھانا مذموم ہے اور دوسرا یہ کہ قسم و شہادت میں غیر محتاط انداز اختیار نہ کیا جائے، بلکہ پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ ان امور کی ضرورت بھی ہے یا نہیں،یا صرف قسم کی ضرورت یا صرف شہادت کی، نیز کون سے مواقع پر قسم اور شہادت مذموم ہیں اور کہا ممدوح۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6429
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں