🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَاب تَحْرِيم قَتْلِ الْمُعَاهِدِ وَأَهْلِ اللمَّةِ وَالتَّشْدِيدِ فِي ذلِكَ
ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6466
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے معاہدہ والوں میں سے کسی کو قتل کر دیا، وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا اور چالیس سال کی مسافت تک جنت کی خوشبو پائی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6466]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2686، والنسائي: 8/25، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6745»
وضاحت: فوائد: … اسلام نے معاہدوں کی پاسداری کرنے پر بڑا زور دیا ہے اور اس معاملے میں کافر اور مسلمان کی بھی کوئی تمیز نہیں کی، اگر کوئی ادنی مسلمان بھی کسی کافر سے کوئی معاہدہ کر لیتا ہے یا اس کو پناہ دے دیتا ہے تو تمام مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اس معاہدے کے تقاضوں کو پورا کریں۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2686
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6467
عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (سَيَكُونُ قَوْمٌ لَهُمْ عَهْدٌ فَمَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْهُمْ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا) )
۔ ہلال بن یساف ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسی قومیں آئیں گی، جن کے ساتھ تمہارے معاہدے ہوں گے، جس نے ان میں سے کسی کو قتل کر دیا تو وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا اور جنت کی خوشبو ستر سال کی مسافت پر پائی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6467]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23566»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6468
عَنْ أَبِي بُكَرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حِلِّهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَجِدَ رِيحَهَا) )
۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے معاہدے والے انسان کو بغیر کسی جوازکے قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کی خوشبو کو پانا بھی حرام کر دے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6468]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 9/ 425، وابن حبان: 4882، والحاكم: 1/ 44، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20654»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 9/ 425
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6469
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ، وَمَا مِنْ عَبْدٍ يَقْتُلُ نَفْسًا مُعَاهَدَةً إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَرَائِحَتَهَا أَنْ يَجِدَهَا) ) قَالَ أَبُو بُكَرَةَ: أَصَمَّ اللَّهُ أُذُنِي إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جنت کی خوشبو ایک سو سال کی مسافت تک پائی جاتی ہے اور جو بندہ جب کسی معاہدے والے کو قتل کر دے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو اور جنت کی خوشبو پانے کو حرام کر دے گا۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہ سنی ہو تو اللہ تعالی میرے کانوں کو بہرا کر دے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6469]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الحاكم: 2/ 126، والبيھقي: 8/ 133، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 8744، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20743»

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه الحاكم: 2/ 126
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں