الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب مَالَا يَجُوزُ قَتْلُهُ مِنَ الْحَيَوَانِ
ان حیوانات کا بیان، جن کا قتل کرنا جائز نہیں ہے
حدیث نمبر: 6530
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ النَّمْلَةِ وَالنَّحْلَةِ وَالْهُدْهُدِ وَالصُّرَدِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار جانداروں کو قتل کرنے سے منع فرمایاہے،چیونٹی، شہد کی مکھی،ہد ہد اور ممولہ۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6530]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 5267، وابن ماجه: 3224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3066»
وضاحت: فوائد: … ”صُرَد“ (ممولہ) ایک پرندہ ہے، جو کیڑوں کو کھاتا اور چڑیا کا شکار کرتا ہے، اس کو لٹورا بھی کہتے ہیں۔ چیونٹی اور شہد کی مکھی کا قتل بلا مقصد ہو گا، اس لیے ان کو قتل کرنے سے منع کر دیا گیا، جب یہ نقصان پہنچا رہی ہوں تو ان کے نقصان سے بچنے کے لیے ان کو قتل کرنا جائز ہوگا، اس معاملے میں چیونٹی کے بارے میں واضح نص موجود ہے۔ رہا مسئلہ ہدہد اور ممولہ کا، تو یادر ہے کہ جب کسی حیوان کو قتل کرنے سے روک دیا جائے اور یہ اس کی حرمت اور ضرر کی بنا پر نہ ہو تو اس حکم کی وجہ اس جانور کا حرام ہونا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 5267
حدیث نمبر: 6531
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: ذَكَرَ طَبِيبٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَوَاءً وَذَكَرَ فِيهِ الضِّفْدَعَ يُجْعَلُ فِيهِ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الضِّفْدَعِ
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایسی دواء کا ذکر کیا، جس میں وہ مینڈک ملاتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرمادیا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6531]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3871، 5269، والنسائي: 7/ 210، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15849»
وضاحت: فوائد: … مینڈک کے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ یہ حرام ہے، کیونکہ بوقت ِ ضرورت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اجازت نہ دینا ہی اس کی حرمت کی دلیل ہے۔ مینڈک اگرچہ آبی جانور ہے، لیکنیہ پانی سے باہر بھی زندہ رہ سکتا ہے، بلکہ عرصۂ دراز تک باہر پھرتا رہتا ہے، لہذا اس کو آبی جانوروں والا حکم نہیں دیا جا سکتا۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3871