🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. بَاب النَّهْيِ عَنْ تَحْرِيْقِ كُلَّ ذِى رُوْحِ بِالنَّارِ
ہر روح والی چیز کو آگ سے جلانے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6542
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجَهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ بِالنَّارِ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک نبی نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ ڈالا اور ایک چیونٹی نے اس کو کاٹ لیا، پس اس وجہ سے اس نے حکم دیا کہ اس کا سامان اس درخت کے نیچے سے ہٹا لیا جائے، پھر ان چیونٹیوں کو جلانے کا حکم دیا، اُدھر اللہ تعالی نے اس نبی کی طرف یہ وحی کر دی کہ صرف ایک چیونٹی کو کیوں نہیں جلایا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6542]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3319، ومسلم: 2241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9799 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9800»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی ایک روایت میںہے: ((فَأَوْحَی اللّٰہ اِلَیْہِ اَنْ قَرَصَتْکَ نَمْلَۃٌ اَحْرَقْتَ اُمَّۃً مِّنَ الْاُمَمِ تُسْبِحُ اللّٰہَ۔)) … ”پس اللہ تعالی اس نبی کی طرف وحی کہ ایک چیونٹی نے تجھے کاٹا تھا، لیکن تو نے ایک ایسی امت کو جلا دیا، جو اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتی تھی۔“ ممکن ہے کہ اس نبی کی شریعت کے مطابق آگ کا عذاب دینا جائز ہو، اس لیے جلانے پر سرزنش نہیں کی گئی، بلکہ دوسری چیونٹیوں کو جلانے پر ڈانٹا گیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3319
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6543
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَجَاءَ وَقَدْ أَوْقَدَ رَجُلٌ عَلَى قَرْيَةِ نَمْلٍ إِمَّا فِي الْأَرْضِ وَإِمَّا فِي شَجَرَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ فَعَلَ هَذَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَطْفِئْهَا أَطْفِئْهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جگہ اترے اور قضائے حاجت کے لئے کہیں تشریف لے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے تو دیکھا کہ ایک آدمی زمین یا درخت پر موجود چیونٹیوں کے گھر جلا رہا تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے یہ کام کس نے کیاہے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ کام کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے بجھاؤ بجھاؤ۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6543]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3763»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6544
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَرَرْنَا بِقَرْيَةِ نَمْلٍ فَأُحْرِقَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْبَغِي لِبَشَرٍ أَنْ يُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم چیونٹیوں کی بلوں کے پاس سے گزرے اور دیکھا کہ انہیں جلا دیا گیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی بشر کے لیے لائق نہیں ہے کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانند عذاب دے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6544]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مطولا ابوداود: 2675، 5268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4018 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4018»
وضاحت: فوائد: … آگ کا عذاب بہت سخت، خوفناک اور اذیت ناک ہے، یہ کسی انسان کے لائق نہیں ہے کہ وہ اس کے ذریعے کسی کو اذیت دے، مزید دیکھیں: احادیث نمبر (۵۰۰۸، ۵۰۰۹)۔

الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه مطولا ابوداود: 2675
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں