الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب مَا جَاءَ فِي دِيَةٍ قَتِيلِ شِبْهِ الْعَمْدِ
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 6583
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ أَلَا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَأِ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا مُغَلَّظَةٌ مِائَةٌ مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا أَلَا إِنَّ كُلَّ دَمٍ وَمَالٍ وَمَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ فَإِنِّي قَدْ أَمْضَيْتُهَا لِأَهْلِهَا
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے روز لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: کوڑے یا لاٹھی وغیرہ سے ہو جانے والے خطأ عمد کے قتل کی دیت مغلظہ ہے، کل سو اونٹ ہوں گے، ان میں چالیس اونٹنیاں گابھن ہوں گی، خبر دار!ہر خون، مال، جاہلیت کا فخر میرے قدموں کے نیچے کچل دیا گیا ہے، ہاں میں حاجیوں کو پانی پلانے اوربیت اللہ کی خدمت کرنے کا عہدہ ان ہی کے سپرد کرتا ہوں، جو پہلے سے یہ خدمت کر رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6583]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان۔ أخرجه ابوداود معلقا باثر الحديث: 4549، والدارقطني: 3/ 104، والبيھقي: 8/ 68، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5805 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5805»
وضاحت: فوائد: … قتل شبہ عمد میں صرف سو اونٹ دیت ہے، اس حدیث میں چالیس کی کیفیت تو بتا دی گئی ہے کہ وہ حاملہ اونٹنیاں ہوں، باقی ساٹھ اونٹوں کی تفصیل حدیث نمبر (۶۵۸۰) میں بیان کی گئی ہے، ان دو احادیث کے مطابق کل (۱۰۰) اونٹوں کی دیتیہ بنتی ہے: تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں اس قتل میں قصاص نہیں ہے، البتہ دیت قتل عمد کی دیت کی طرح بھاری ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان۔ أخرجه ابوداود معلقا باثر الحديث: 4549
حدیث نمبر: 6584
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَأِ شِبْهِ الْعَمْدِ قَتِيلُ السَّوْطِ وَالْعَصَا فِيهِ مِائَةٌ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: کوڑے یا لاٹھی وغیرہ سے ہو جانے والا قتل خطأ شبہ عمد ہے، اس کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس اونٹنیاں گابھن ہوں گی۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6584]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4547، 4548، 4588، وابن ماجه: 2627، والنسائي: 8/ 40، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6552»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4547
حدیث نمبر: 6585
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَذَكَرَ حَدِيثًا وَفِيهِ أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ خَطَأِ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا وَفِي لَفْظٍ أَرْبَعُونَ مِنْ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهُنَّ خَلِفَةٌ
۔ سیدنا عقبہ بن اوس رضی اللہ عنہ ایک صحابی ٔ رسول سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا:خبردار! خطا عمد کا مقتول جو کہ کوڑے، لاٹھی یا پتھر سے مارا جائے، اس کی دیت مغلظہّ (سخت)ہے جو کہ سو اونٹ ہے، ان میں چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں گی، ایک روایت میں ہے: چالیس اونٹنیاں ثنیہ سے بازل کے درمیان درمیان ہوں گی اور سب کی سب حاملہ ہوں گی۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6585]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 8/ 41، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15463»
وضاحت: فوائد: … ساتویں سال میں داخل ہونے والی اونٹنی کو ثَنِیّۃ کہتے ہیں اور عمر کے نویں سال میں داخل ہونے والی اونٹنی کو بَازِل کہتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 8/ 41
حدیث نمبر: 6586
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَذَكَرَ حَدِيثًا وَفِيهِ أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ خَطَأِ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا وَفِي لَفْظٍ أَرْبَعُونَ مِنْ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهُنَّ خَلِفَةٌ
۔ قاسم بن ربیعہ نے اس حدیث کو یوں بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوڑے، لاٹھی اور پتھر سے ہو جانے والے خطأ عمد کے مقتول کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں سے چالیس اونٹنیاں گابھن ہوں گی، جس نے ایک اونٹ بھی زائد طلب کیا، وہ جاہلیت والوں میں سے ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6586]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 8/ 42، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15389 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15463»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 8/ 42
حدیث نمبر: 6587
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَرِيبٍ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً وَثَلَاثُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ وَأَرْبَعُونَ ثَنِيَّةً خَلِفَةً إِلَى بَازِلِ عَامِهَا
۔ یہ بھی مذکورہ بالا حدیث کے قریب قریب ہی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کل سو اونٹ ہوں گے، ان میں سے تیس حِقّے، تیس جذعے، تیس بنت ِ لبون اور چالیس اونٹنیاں ثَنِیّۃ سے بَازِل تک ہوں، لیکن ہوں گابھن۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6587]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، القاسم بن ربيعة،يروي عن عقبة بن اوس، عن رجل من اصحاب النبيV، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15465»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 6588
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ وَذَلِكَ أَنْ يَنْزُوَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ النَّاسِ قَالَ أَبُو النَّضْرِ فَيَكُونُ رِمِّيًا فِي عِمِّيًا فِي غَيْرِ فِتْنَةٍ وَلَا حَمْلِ سَلَاحٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:قتل عمد کی دیت کی طرح قتل شبہ عمد کی دیت بھی سخت ہے، البتہ شبہ عمد میں قاتل کو قتل نہیں کیا جاسکتا، یہ اس طرح ہوتا ہے کہ شیطان لوگوں کے درمیان شر انگیزی کرنا ہے۔ ابو نضر کہتے ہیں: پھر اندھادھند لڑائی (لاٹھی، کوڑا اور پتھر جیسی چیزوں) کو پھینکا جاتا ہے، جبکہ بیچ میں نہ کوئی فتنہ ہوتا ہے اور نہ اسلحہ۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6588]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 4565، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6718 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6718»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 4565