🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بابُ هَلْ يُقْطَعُ العَبْدُ إِذَا سَرَقَ مِنْ. ا سَرَقَ مِنْ سَيِّدِهِ؟ وَمَا حُكْمُ الْعَبْدِ الْآبِقِ إِذَا سَرَقَ
جب غلام، آقا کی چوری کرے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، نیز بھاگے ہوئے غلام کا حکم کیا ہے، جب وہ چوری کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6764
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ فَبِيعُوهُ وَلَوْ بِنَشٍّ يَعْنِي بِنِصْفِ أُوقِيَّةٍ
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام چوری کرے تو اسے فروخت کر دو، اگرچہ نصف اوقیہ کے عوض بیچنا پڑے۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6764]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمر بن ابي سلمة ضعيف فيمايتفرد به، أخرجه ابوداود: 4412، والنسائي: 8/ 91، وابن ماجه: 2589، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8432»
وضاحت: فوائد: … ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6765
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ وَقَالَ مَرَّةً إِذَا سَرَقَ فَبِيعُوهُ وَلَوْ بِنَشٍّ وَالنَّشُّ نِصْفُ الْأُوقِيَّةِ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام بھاگ جائے، راوی نے ایک بار یہ الفاظ کہے: جب غلام چوری کرے تو اسے فروخت کر دے، اگرچہ بیس درہم کے عوض فروخت کرنا پڑے۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6765]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9018»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے، البتہ درج ذیل حدیث ملاحظہ کریں:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد قائم کروں، لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو اس کو اس حال میں پایا کہ ابھی اس کا نفاس کا خون خشک نہیں ہوا تھا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گیااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صورتحال پر مطلع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِہَا فَأَقِمْ عَلَیْہَا الْحَدَّ، أَقِیْمُوْا الْحُدُوْدَ عَلٰی مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ۔ …)) ”جب اس کا خون خشک ہو جائے تو پھر اس کو حد لگانا،اپنے غلاموں پر بھی حدیں قائم کیا کرو۔“ دیکھیں: حدیث نمبر (۶۷۲۱)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غلاموں اور لونڈیوں پر حدود نافذ کی جائیں گی، جب تک ان کو مستثنی کرنے والی کوئی واضح نص نہ آ جائے۔
امام مالک، امام شافعی اور عام اہل علم کییہی رائے ہے کہ چوری کی حدّ غلام اور لونڈی پر نافذ کی جائے گی۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9018
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں