🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ مَا جَاءَ فِي قَدْرِ التَّعْزِيزِ وَالْحَبْسِ فِي التهم
تعزیر کی مقدار اور تہمتوں کی وجہ سے قید کر لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6797
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشَرَةِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس کوڑوں سے زیادہ نہ مارا جائے، الا یہ کہ وہ اللہ تعالی کی حدود میں سے کوئی حد ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحدّ شاربها/حدیث: 6797]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6848، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15832 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15926»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6848
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6798
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَجْلِدُوا فَوْقَ عَشَرَةِ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس کوڑوں سے زیادہ کوڑے نہ مارو، مگر اللہ تعالی کی حدود میں سے کسی حد میں۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحدّ شاربها/حدیث: 6798]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16605»
وضاحت: فوائد: … شریعت ِ اسلامیہ میں حدود اور ان کی سزاؤں کا تعین کر دیا گیا ہے، تعزیر سے مراد اس جرم کی سزا ہے، جو حد شرعی والے جرم سے کم ہو، اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ تعزیر دس کوڑوں سے زیادہ نہ دی جائے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16605
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6799
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ قَوْمِي فِي تُهْمَةٍ فَحَبَسَهُمْ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ عَلَامَ تَحْبِسُ جِيرَتِي فَصَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ نَاسًا لَيَقُولُونَ إِنَّكَ تَنْهَى عَنِ الشَّرِّ وَتَسْتَخْلِي بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَقُولُ قَالَ فَجَعَلْتُ أُعَرِّضُ بَيْنَهُمَا بِالْكَلَامِ مَخَافَةَ أَنْ يَسْمَعَهَا فَيَدْعُوَ عَلَى قَوْمِي دَعْوَةً لَا يُفْلِحُونَ بَعْدَهَا أَبَدًا فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهِ حَتَّى فَهِمَهَا فَقَالَ قَدْ قَالُوهَا أَوْ قَائِلُهَا مِنْهُمْ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُ لَكَانَ عَلَيَّ وَمَا كَانَ عَلَيْهِمْ خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری قوم کے کچھ لوگ تہمت کے جرم میں پکڑ کر قید کر دئیے، پھر ہماری قوم کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے کہا: اے محمد! آپ نے میرے پڑوسیوں کو قید کیوں کر رکھا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے خاموشی اختیار کی، وہ پھر کہنے لگا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ شر سے منع کرتے ہیں، جبکہ آپ تو شرّ پھیلا رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا کہتا ہے؟ سیدنا معاویہ کہتے ہیں:میں نے دونوں کے درمیان بات کو واضح نہ ہونے دیا، ڈر یہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات سن لیں اورمیری قوم پر بددعا کر دیں، پھرمیری قوم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکے گی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ لگے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کوسمجھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی ان لوگوں نے یہ تہمت والی بات کہی ہے، اللہ کی قسم! اگر میں وہ کام کر دوں، جس سے میں نے منع کیا ہے، تو اس کا بوجھ مجھ پر ہو گا، ان پر نہیں ہوگا تم اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحدّ شاربها/حدیث: 6799]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3630، والترمذي: 1417، والنسائي: 8/ 66، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20268»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم کی کہ معاملہ واضح ہونے تک متعلقہ افراد کو قید کرنا جائز ہے، دراصل یہ کوئی سزا نہیں ہے، بلکہ جرم کی تحقیق و تفتیش کے لیے ہے، اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ فرد مجرم ہے یا نہیں اور اس کا جرم حد یا تعزیر کے قابل ہے یا نہیں، اس لیے اس قید کے دوران کسی کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں